تحریر۔۔اخترصدیقی
جسٹس محسن اختر کیانی لاہور ہائیکورٹ سے بطور جج مستعفی ہوگئے ہیں ، لیکن جاتے جاتے وہ ایک ایسا فیصلہ دے گئے جو آنے والے برسوں تک فیملی عدالتوں میں گونجتا رہے گا۔ ایک خاتون نے اپنے کمسن بچوں کے خرچے کے لیے عدالت سے رجوع کیا، والد برطانیہ میں مقیم تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ اس کی آمدن محض پانچ سو سے چھ سو پاؤنڈ ہے۔ ٹرائل کورٹ نے بیس ہزار روپے فی بچہ خرچہ مقرر کیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے اسے بڑھا کر تیس ہزار روپے فی بچہ کر دیا اور ساتھ یہ اصول طے کر دیا جو اس سے پہلے ہماری عدالتوں میں صرف زبانی جمع خرچ تھا۔
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ طلاق کے بعد مرد یہ سمجھتا ہے کہ اس نے بیوی کو ہی نہیں، اپنے بچوں کو بھی طلاق دے دی ہے۔ وہ بچوں کو ماں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بیرون ملک جا بیٹھتا ہے، وہاں اپنی نئی زندگی بسا لیتا ہے اور جب عدالت خرچہ مانگتی ہے تو تنخواہ کی جعلی سلپیں اور محدود آمدن کا رونا لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ جسٹس کیانی نے اسی سوچ کی جڑ پر وار کیا ہے۔ انہوں نے واضح لکھا ہے کہ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری والد پر ہے، بچوں کے والدہ کے پاس رہنے سے یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، اور والد کی محدود آمدن کا دعویٰ محض بیان کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ صرف ایک خاتون کی جیت نہیں، یہ ہزاروں ان ماؤں کی جیت ہے جو عدالتوں کے چکر لگا کر تھک چکی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ والد کو اپنی مالی استطاعت محدود ہونے کے دستاویزی ثبوت دینا ہوں گے، زبانی دعویٰ کافی نہیں۔ برطانیہ میں رہائش بذات خود کسی کی آمدن چھپانے کا جواز نہیں بن سکتی، عدالت کو اس کے کام کی نوعیت، ملازمت اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بچوں کے خرچے کا تعین ان کی ضروریات اور تعلیم و پرورش کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا، نہ کہ باپ کی مرضی سے۔
اس فیصلے میں دو اور بہت اہم باتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ بچوں کے خرچے میں سالانہ دس فیصد اضافہ 2019 سے شمار کیا جائے گا، کیونکہ مہنگائی باپ کی جیب نہیں دیکھتی، وہ بچے کی بھوک دیکھتی ہے۔ دوسری یہ کہ سپریم کورٹ کے اس اصول کو دہرایا گیا کہ شادی ختم ہونے کے بعد بھی بچوں کی کفالت باپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ وہ اصول ہے جسے ہمارے مرد اکثر بھول جاتے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ انہوں نے آئین کے تحفظ اور بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے کام کیا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ فیصلہ بھی اسی دفاع کی ایک شکل ہے۔ بچوں کا حق بھی تو ایک بنیادی حق ہے۔ جس معاشرے میں باپ اپنی ذمہ داری سے بھاگے، اس معاشرے میں ریاست کو باپ بننا پڑتا ہے، اور عدالت اسی ریاست کا چہرہ ہے۔
آج وہ جج کرسی سے اتر گیا ہے، لیکن اس کا یہ فیصلہ اسے بہت سے ججوں سے زیادہ زندہ رکھے گا۔ کیونکہ انصاف صرف بڑی آئینی ترامیم پر بات کرنے کا نام نہیں، انصاف ایک چھوٹے بچے کے اسکول کی فیس اور اس کے دودھ کے ڈبے کا خرچہ دلانے کا نام بھی ہے۔
