امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جن سے براہ راست امریکہ اور یورپ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں صدارتی انتخابات کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے۔ اپنی انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے وہ اس مؤقف پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ تنازع یا جنگ کی ابتداء خود ایران کی طرف سے ہوئی ہے، اور بات اب یہاں تک آ پہنچی ہے کہ انہوں نے ایسے عسکری ہتھیار تیار کر لیے ہیں جو طویل فاصلہ طے کر کے مغربی دنیا بالخصوص یورپ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سیاسی منظر نامے میں ڈونلڈ ٹرمپ اور باراک اوباما کے مابین سخت سیاسی رسہ کشی اور بیانات کے تبادلے نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر رکھا ہے۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کا روایتی انداز ایران اور مسلم مخالف لابی کے ساتھ جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، وہیں دوسری طرف اوباما اس صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی انتخابی مہم میں مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور عدم نفرت کا پرچار کر رہے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بلاوجہ اور غیر ضروری جنگ کا آغاز کیا ہے، جبکہ وہ خود اپنے دورِ صدارت میں اس قسم کے مسائل کو صرف مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے کامیابی کے ساتھ روکے ہوئے تھے اور اس وقت کسی قسم کی جنگی کیفیت موجود نہیں تھی۔ ان کے نزدیک ٹرمپ نے اپنے سیاسی مقاصد اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے تنازعات کو ہوا دی اور حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا جس کی امریکہ کو اس وقت ہرگز کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اس وقت امریکی سیاسی منظر نامے پر دونوں حریف امیدوار ایک دوسرے پر تابڑ توڑ سیاسی حملے کرنے میں مصروف ہیں، اور انتخابی پیشگوئیاں کرنے والے یہ توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ شاید اس بار پلڑا اوباما کے حق میں جھکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ناقدین کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی طور پر اپنے کیریئر کے آخری مرحلے سے گزر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر محاذ پر جارحانہ بیان بازی اور سخت حملوں کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس کشمکش کے دوران اوباما نہ صرف مسلمانوں کے دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ وہ جنگ سے نفرت اور بیزاری کا اعلانیہ اظہار کر کے عام امریکی عوام کی امن پسندی کو بھی کیش کرا رہے ہیں۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ طویل اور تھکا دینے والی جنگوں سے بیزار ہو چکی امریکی عوام اب تبدیلی کی خواہاں ہے، اور یہ ممکن ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں کوئی ایسا فیصلہ صادر کرے جو عالمی سطح پر منڈلاتے ہوئے جنگ کے سیاہ بادلوں کو چھٹانے کا سبب بنے۔
دوسری جانب، سمندر پار مشرقِ وسطیٰ کے اندر بھی سیاسی بساط تیزی سے پلٹ رہی ہے۔ اسرائیل کے اندر جاری انتخابات اور سیاسی ہلچل میں وزیراعظم نتن یاہو کو بھی شدید اندرونی و بیرونی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے سیاسی حریف اور اپوزیشن جماعتیں اس وقت ناصرف ان کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنا رہی ہیں بلکہ اس غیر ضروری اور خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنے والی جنگ کو یکسر مسترد کر رہی ہیں۔ اسرائیلی سیاسی حلقوں میں نتن یاہو کی حکومت ڈگمگاتی ہوئی اور ان کی سیاسی کشتی گرداب میں پھنسی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر اتفاقیہ طور پر امریکہ اور اسرائیل دونوں اہم ممالک کے برسرِ اقتدار صدور اور وزرائے اعظم ایک ہی وقت میں اپنے اقتدار اور تخت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اور ان کی جگہ نئی حکومتیں، متبادل سیاسی چہرے یا امن پسند پارٹیاں اقتدار سنبھالتی ہیں، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ خطے میں جاری اس تباہ کن جنگی جنون میں نمایاں کمی آ جائے گی اور یہ تنازعہ بتدریج خاتمے کی طرف بڑھ سکے گا۔ عالمی اور علاقائی امن کے لیے اس قسم کی سیاسی تبدیلی اس وقت سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کبھی بھی کسی پیچیدہ مسئلے کا مستقل اور عادلانہ حل فراہم نہیں کرتی۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ جب بھی دنیا میں جنگیں لڑی گئیں اور غیر ضروری محاذ آرائیاں کی گئیں، تو اس کے نتیجے میں انسانیت کا نقصان تو ہوا لیکن مسائل کا حل نہیں نکلا۔ جنگوں کے شعلے بجھنے کے بعد بالآخر فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑتا ہے، اور جو فیصلے یا معاہدے بات چیت کے ذریعے طے پاتے ہیں، وہی طویل المدت اور پائیدار امن کی ضمانت بنتے ہیں۔ اس کے برعکس، طاقت اور جنگ کے زور پر جیتی گئی کوئی بھی حکومت کبھی بھی اندرونی طور پر مطمئن اور مستقل مزاج نہیں رہتی۔ فتح کے نشے میں چُور ہونے کے باوجود ایسی حکومتوں کے سر پر ہمیشہ جوابی حملوں اور خطرات کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں، اور وہ کبھی بھی مکمل طور پر بے فکر نہیں ہو سکتیں۔ موجودہ عالمی حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اگر دنیا میں حقیقی امن و امان کا قیام عمل میں لانا ہے، تو تمام عالمی طاقتوں اور ذمہ دار رہنماؤں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اعتدال کی راہ اپنانی ہوگی۔ بالخصوص ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کو اپنے جارحانہ اور جنگجو رویے سے فوری طور پر باز آنا چاہیے۔ اگر ان دونوں ممالک کے جاری الیکشن کے نتائج میں کوئی بڑی اور انقلابی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے، تو یہ پوری دنیا اور بالخصوص خطے کے عوام کے لیے خوش آئند ثابت ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، اور دنیا کی یہ سیاست کس سمت کا رخ اختیار کرتی ہے، جس کا فیصلہ بہت جلد ہونے والا ہے۔
