آصف علی نائیک

25اکتوبر 2026
موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ گاڑیوں رکشوں اور سکول وینز کی چیکنگ بھی ضروری ہے
قانون کی بالادستی کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان ہوتی ہے اور جب قانون پر عمل درآمد کی بات ہو تو اس کا اطلاق بلاامتیاز تمام شہریوں پر ہونا چاہیے ان دنوں پولیس کی جانب سے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر جعلی نمبر پلیٹیں لگانے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں جو بلاشبہ ایک قابلِ تحسین اقدام ہے جعلی نمبر پلیٹوں کا استعمال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر اپنی شناخت چھپانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکا دینے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں
تاہم اس مہم کے دوران عوامی سطح پر ایک اہم سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ کیا ان کارروائیوں کا دائرہ تمام اقسام کی گاڑیوں تک یکساں طور پر پھیلایا جا رہا ہے؟ عام مشاہدے کے مطابق سڑکوں پر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف کارروائیاں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہیں جبکہ رکشوں اور دیگر گاڑیوں کی چیکنگ نسبتاً کم نظر آتی ہے اگر یہ تاثر درست ہے تو متعلقہ حکام کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ قانون کے یکساں نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ موٹر سائیکل ہو رکشہ ہو کار ہو یا کوئی دوسری گاڑی اگر اس پر جعلی غیر قانونی یا قواعد کے برعکس نمبر پلیٹ لگی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے کسی بھی شہری کو اس بنیاد پر استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کس قسم کی گاڑی استعمال کرتا ہے
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام گاڑیوں کو یکساں معیار پر پرکھیں اگر ایک موٹر سائیکل سوار کو جعلی نمبر پلیٹ پر روکا جا سکتا ہے تو اسی خلاف ورزی پر کسی کار یا رکشہ ڈرائیور کو بھی قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر غیر معیاری نمبر پلیٹ لازماً جعلی نہیں ہوتی بعض صورتوں میں نمبر پلیٹ قواعد کے مطابق نہ ہونے یا رجسٹریشن کے دیگر مسائل کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے لہٰذا کارروائی کرتے وقت خلاف ورزی کی نوعیت کی درست نشاندہی اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹ کے معاملات درست رکھیں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں قانون کی پابندی صرف جرمانے سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے
سکول وینز اور رکشوں میں اوورلوڈنگ بچوں کی زندگیوں کا سوال
جعلی نمبر پلیٹوں کے خلاف کارروائی اپنی جگہ اہم ہے لیکن سڑکوں پر موجود دیگر سنگین مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان میں سب سے اہم مسئلہ سکول جانے والے بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والی گاڑیوں اور رکشوں میں گنجائش سے زیادہ بچوں کو بٹھانا ہے
اکثر مقامات پر ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں رکشوں اور سکول وینز میں مقررہ گنجائش سے زیادہ بچے سوار ہوتے ہیں بعض اوقات بچے رکشوں کے اطراف یا پچھلی جانب اس طرح بیٹھے ہوتے ہیں کہ ذرا سی بے احتیاطی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے سوال یہ ہے کہ اگر کسی رکشے یا سکول وین میں گنجائش سے زیادہ بچے بٹھائے جائیں گاڑی کی حالت درست نہ ہو یا ڈرائیور حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرے تو اس کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے؟
یہ معاملہ محض ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ معصوم بچوں کی جانوں کے تحفظ کا سوال ہے والدین اپنے بچوں کو اس اعتماد کے ساتھ سکول بھیجتے ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچیں گے اس اعتماد کو برقرار رکھنا ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والوں والدین اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ سکول وینز رکشوں اور بچوں کو لے جانے والی دیگر گاڑیوں کی باقاعدہ جانچ کی جائے ان کی گنجائش فٹنس ڈرائیور کے لائسنس اور دیگر متعلقہ حفاظتی تقاضوں کو یقینی بنایا جائے جہاں قانون کی خلاف ورزی ہو وہاں بلاامتیاز کارروائی کی جائے
ٹریفک قوانین کا بنیادی مقصد شہریوں کی حفاظت سڑکوں پر نظم و ضبط اور حادثات کی روک تھام ہے اگر پولیس کی توجہ صرف ایک مخصوص قسم کی گاڑیوں تک محدود ہو جائے اور دوسری جانب واضح خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جائے تو عوام میں احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے
پولیس کی جانب سے جعلی نمبر پلیٹوں کے خلاف کارروائی کا مقصد اس وقت مزید مؤثر ہو سکتا ہے جب اس کے ساتھ رجسٹریشن کی جانچ مشکوک گاڑیوں کی شناخت ہیلمٹ اور دیگر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور اوورلوڈنگ کی روک تھام کو بھی مناسب اہمیت دی جائے
اسی طرح شہریوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قانون کی پابندی صرف پولیس کی موجودگی میں ضروری نہیں غلط نمبر پلیٹ لگانا گنجائش سے زیادہ سواریاں بٹھانا کم عمر بچوں کو غیر محفوظ طریقے سے لے جانا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنا نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے
پولیس حکام سے چند اہم گزاشات متعلقہ پولیس افسران اور ٹریفک حکام سے گزارش ہے کہ جعلی نمبر پلیٹوں کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے چند اقدامات پر خصوصی توجہ دی جائے
موٹر سائیکلوں کے ساتھ رکشوں کاروں سکول وینز اور دیگر گاڑیوں کی بھی یکساں بنیادوں پر چیکنگ کی جائے
سکولوں میں بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والی گاڑیوں اور رکشوں کے لیے خصوصی چیکنگ مہم چلائی جائے تاکہ اوورلوڈنگ اور دیگر حفاظتی خلاف ورزیوں کی روک تھام ممکن ہو سکے
جعلی نمبر پلیٹ غیر قانونی نمبر پلیٹ اور رجسٹریشن سے متعلق مختلف خلاف ورزیوں میں فرق کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے
شہریوں میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ وہ اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن نمبر پلیٹ اور حفاظتی تقاضوں کو بروقت پورا کریں
کارروائی کے دوران کسی بھی شہری کے ساتھ غیر ضروری سختی امتیازی سلوک یا غیر قانونی رویے سے گریز کیا جائے قانون پر عمل درآمد شفاف منصفانہ اور قواعد کے مطابق ہونا چاہیے
عوام کا تعاون بھی ناگزیر ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ پولیس اکیلے ٹریفک کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتی والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول لے جانے والی گاڑیوں کے انتخاب میں احتیاط برتیں اور صرف کم کرایے کو ترجیح دینے کے بجائے بچوں کی حفاظت کو مقدم رکھیں
اسی طرح رکشہ ڈرائیوروں اور سکول ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی آمدنی کے لیے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ چند اضافی سواریوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی بڑے حادثے کی صورت میں ہونے والے نقصان کا متبادل نہیں بن سکتی
شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی دیکھنے کی صورت میں متعلقہ حکام کو آگاہ کریں اور خود بھی ٹریفک قوانین کی پابندی کریں
جعلی نمبر پلیٹوں کے خلاف پولیس کی کارروائیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں لیکن ان کارروائیوں کا حقیقی مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب قانون کا نفاذ تمام شہریوں اور تمام اقسام کی گاڑیوں پر یکساں ہو
اگر موٹر سائیکل سواروں کی چیکنگ کی جا رہی ہے تو رکشوں اور کاروں کو بھی چیک کیا جائے اگر جعلی نمبر پلیٹ پر کارروائی ہو رہی ہے تو سکول وینز اور رکشوں میں اوورلوڈنگ جیسے خطرناک معاملات پر بھی توجہ دی جائے بچوں کی حفاظت شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کسی ایک مہم تک محدود نہیں ہونی چاہیے
یاد رکھیے قانون کی اصل طاقت کمزور پر سختی کرنے میں نہیں بلکہ ہر شخص کے لیے یکساں انصاف یقینی بنانے میں ہے
پولیس حکام سے یہی گزارش ہے کہ جعلی نمبر پلیٹوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے مگر اس کے ساتھ ٹریفک کے دیگر اہم مسائل کو بھی ترجیح دی جائے کیونکہ ایک محفوظ معاشرے کی بنیاد صرف چالان کرنے سے نہیں بلکہ قانون کے منصفانہ نفاذ عوامی شعور اور انسانی جانوں کے احترام سے قائم ہوتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *