پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے گزشتہ روز ایک انتہائی اہم اور تاریخی معاہدہ کیا ہے جسے ’بدر‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ بدر کا مطلب پورا چاند اور دوسرے معنے میں بدری صحابہ تو گویا انہی کے مقدس اور تاریخی نام پہ اس اتحاد کا نام رکھا گیا ہے۔ غزوۂ بدر 17 رمضان المبارک 2 ہجری کے موقع پر رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام اور مسلم فوج کا وہ تاریخی اتحاد و عزم ہے جس میں حق و باطل کے معرکے کے دوران باہمی نصرت، دفاع اور اتحاد کا عملی ثبوت دیا گیا۔ اسی مناسبت سے اس اتحاد میں چاروں ملکوں کی طرف سے دفاعی حوالے سے انتہائی اہم معاہدات کیے گئے ہیں اور اس پر چاروں ممالک کے ذمہ داران نے باضابطہ طور پر دستخط ثبت کیے ہیں۔ اس ضمن میں ایک باقاعدہ تقریب بدھ کے روز قطری دار الحکومت دوحہ میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف، انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری، ترکی کے وزیر دفاع یاشار گولر اور قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ ترک خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی‘ کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار میں باہمی تعاون کو فروغ دینا، چاروں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مذید مضبوط بنانا، اور تکنیکی و عسکری امور، تربیت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں بھرپور باہمی تعاون کی حمایت کرنا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کا مزید کہنا ہے کہ یہ معاہدہ چاروں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ترک دفاعی صنعت کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں بھی مدد دے گا، اور یہ اقدام جدید دفاعی نظاموں کی ترقی سے ہم آہنگ نئی ٹیکنالوجیز اور صنعتی صلاحیتوں کے فروغ میں بے حد معاون ثابت ہوگا۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ مکمل چاند کو بدر کہتے ہیں اور معاہدے کا نام بھی اسی مناسبت سے رکھا گیا ہے کیوں کہ اس معاہدے کے تحت چاروں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں کی مکمل تکمیل کریں گے۔ اس معاہدے کے تحت دفاعی پیداوار میں ہر ملک کی انفرادی و اجتماعی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا، دفاعی صنعت کی استعداد میں شاندار اضافہ ہو گا، اور اتحادی و دوست ممالک کی تمام تر دفاعی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے گا۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ شریک ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے وسیع دائرہ کار کو وسعت دینے، دفاعی صنعت کے شعبے میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا، اور اس سے خطے اور دنیا بھر میں سلامتی، پائیدار استحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول میں بڑی مدد ملے گی۔
اس سے قبل اگر ہم ماضی کی پیش رفت پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ انتہائی اہم ’مکہ معاہدہ‘ کیا ہوا ہے جو ایک دفاعی معاہدے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضمانت دیتا ہے کہ اس میں شامل کسی بھی ایک ملک کے اوپر ہونے والے حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور اس اتحاد کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور کم از کم 10 سال تک تو اس سے کوئی بھی رکن ملک باہر نہیں نکل سکتا۔ اگر کسی ملک کے لیے اس سے نکلنا ناگزیر بھی ہو گیا تو 10 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد جا کر وہ تین ماہ یعنی تین مہینے قبل تحریری طور پر اس اتحاد کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا اور پھر جا کر وہ اس معاہدے یا اتحاد کو خیر باد کہہ سکتا ہے۔
جب کہ اس نئے اور شاندار معاہدے میں مزید قطر اور انڈونیشیا جیسے اہم ممالک شامل ہوئے ہیں جو کہ دونوں ممالک اپنی منفرد خصوصیات اور اہمیت رکھتے ہیں۔ قطر عالمی دنیا میں ایک اعتدال پسند ملک اور عرب دنیا کے حوالے سے بھی ایک بہت خاص اور بلند مقام رکھتا ہے جہاں پر دنیا بھر کے بڑے ممالک کے مذاکرات وغیرہ مستقل بنیادوں پر ہوتے رہتے ہیں اور ان کی اہمیت اور عالمی کردار کسی سے ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے۔ دوسری طرف انڈونیشیا ہے جو اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا آبادی والا ملک ہے تو ان دونوں کے ساتھ بھی پاکستان اور ترکی کا ایک نیا معاہدہ اور وہ بھی ’بدر‘ کے نام سے طے پانا، یہ ایک انتہائی اہمیت کا حامل اقدام ہے اور اس میں بھی تقریباً تمام تر دفاعی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ عسکری تعاون کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جن پر چاروں ممالک سختی سے کاربند ہوں گے۔
ان تمام تر اور دونوں بڑے معاہدات سے بخوبی معلوم ہو رہا ہے کہ اس وقت پاکستان دنیا بھر میں تمام اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا بھرپور خواہاں ہے اور اس کے لیے نہایت فعال اور کلیدی کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اور پاکستان اس وقت پوری دنیا میں عسکری اور دفاعی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل بن چکا ہے اور دنیا بھر کے ممالک پاکستان کے ساتھ معاہدات کرنے کے لیے دوڑتے چلے آ رہے ہیں، جن میں سے کئی ممالک کے ساتھ اہم معاہدات ہو چکے ہیں اور کئی اہم ممالک کے ساتھ معاہدات ہونا ابھی باقی ہیں۔ اور خاص طور پر یہ دونوں بڑے اتحاد اس بات کی روشن گواہی دے رہے ہیں کہ اب مستقبل قریب میں اور آنے والے دور میں تمام اسلامی ممالک کا ایک مضبوط اور جامع اتحاد ناگزیر اور سو فیصد یقینی ہو چکا ہے، اور اس کا سارا کریڈٹ بلاشبہ پاکستان کو جاتا ہے اور خاص طور پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اس کے لیے بہت زیادہ متحرک ہو کر کلیدی اور تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔
