​گزشتہ روز اتوار کے دن حوثی باغیوں نے ایک بار پھر سعودی عرب کی طرف 11 بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جنہیں سعودی اور اتحادی افواج نے ناکارہ بنا دیا۔ ان میزائلوں کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور سات گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ تین دکانیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔
​حوثیوں کا پے در پے اس طرح سعودی عرب پر حملے کرنا، بالخصوص حرمین شریفین میں افراتفری پھیلانا اور زائرین کو خوف زدہ کرنا ایک گھناؤنیا اور عالمی منصوبہ ہے، جسے اب پوری طرح بے نقاب ہو جانا چاہیے۔ مسلسل حرمین شریفین مکہ مکرمہ و مدینہ منورہاور ریاض کی طرف میزائل داغنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حوثی باغی اسلام کے امن و آشتی کے نشان والے مقدس شہروں میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ ان کا اصل ہدف حرمین شریفین ہے، جبکہ سعودی حکومت اور شاہی خاندان تو صرف ایک بہانہ ہے
​اس سازش کو اب امتِ مسلمہ کو سمجھ لینا چاہیے، کیونکہ حرمین شریفین مسلمانوں کی ریڈ لائن’ ہیں اس پر کسی قسم کی تخریب کاری کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
گزشتہ کچھ عرصے سے مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب کے امن کو تباہ کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں، وہ اب جنگ کے شعلے نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک گہرے بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ ریاض اور دیگر اہم شہروں پر ہونے والے حالیہ میزائل اور ڈرون حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خطے میں امن دشمن عناصر اپنی تخریبی کارروائیوں سے باز نہیں آ رہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے سول تنصیبات، ہوائی اڈوں اور پروازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔
​آج ایک عالمی اور اسلام دشمن منصوبے کے تحت حوثی باغی جان بوجھ کر دنیا کی سب سے مقدس ترین جگہوں اور امن کی علامات والے شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ وہاں افراتفری پھیلے اور لوگ بیت اللہ کی طرف جانا چھوڑ دیں۔ یہ کسی حکومت یا شاہی خاندان کے خلاف کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ پورے عالمِ اسلام اور امتِ مسلمہ کے خلاف ایک انتہائی گھناؤنی سازش ہے۔ امتِ مسلمہ کو اس سازش کی گہرائی کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا۔ جو بھی طاقتیں ان حوثی باغیوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں، انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حرمین شریفین تمام مسلمانوں کی ریڈ لائن ہیں۔ اس نوعیت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے اس مقدس فضا کو نہ تو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کا یہ ناپاک خواب کبھی شرمندۂ تعبیر ہوگا۔ امتِ مسلمہ حرمین شریفین کا تقدس اور مقام اچھی طرح جانتی ہے، اور اس معاملے میں کوئی بھی اسلامی ملک کسی بھی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں۔
​حوثی باغیوں اور ان کے ہم نواؤں کو اب بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے اور اسلام دشمن قوتوں کا آلہ کار بننے سے باز آ جانا چاہیے، ورنہ تباہی ان کا مقدر بن جائے گی۔ یہ حملے عام شہریوں اور مسافروں کے اندر خوف و ہراس پھیلانے اور حرمین کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش ہیں۔ کب تک امتِ مسلمہ اور زائرین ان مسلسل حملوں کے سائے میں زندگی بسر کرتے رہیں گے
​اب وقت آ گیا ہے کہ اسلامی دفاعی اتحاد اور عالمی برادری اس حوالے سے حتمی اور فیصلہ کن قدم اٹھائے اور ان جارحانہ کارروائیوں کا مستقل سدِ باب کرے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو خطے اور حرمین شریفین کا امن شدید خطرے میں پڑ جائے گا، جو پورے عالمِ اسلام کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ حوثی باغیوں کے لیے بھی اسی میں بہتری ہے کہ وہ حرمین شریفین کے تقدس کا احترام کریں، افراتفری پھیلانے سے رکیں اور اسلام مخالف قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہونا بند کریں، تاکہ امتِ مسلمہ میں امن اور استحکام قائم رہ سکے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگ اور محاذ آرائی کی راہ ترک کر کے گفت و شنید اور پائیدار امن کے راستے کو اپنایا جائے، کیونکہ اگر اس وقت ہوش سے کام نہ لیا گیا تو یہ چنگاریاں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں جس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *