آصف علی نائیک
26 اکتوبر 2026
شادی کی خوشیاں اپنی جگہ مگر دوسروں کی بیٹیوں کے گھر بسانا اصل خوشی ہے آج کل سوشل میڈیا پر معروف شخصیات کی شادیوں کے خوب چرچے ہیں گزشتہ دنوں چکوال کے ایک نوجوان کی شادی بھی بڑی دھوم دھام سے ہوئی مگر سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معروف ٹک ٹاک اسٹار مسٹر پتلو کی شادی ایک منفرد انداز میں منعقد ہو رہی ہے۔
مسٹر پتلو کی شادی کی تقریبات اور ان کے شیڈول کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف باتیں گردش کر رہی ہیں گزشتہ روز ان کی ٹک ٹاک لائیو میں شادی کی تقریبات کے بارے میں سننے کا موقع ملا جس میں کئی دلچسپ چیزیں سامنے آئیں مگر ایک بات ایسی تھی جس نے دل کو چھو لیا۔
مسٹر پتلو کے مطابق ان کی شادی کی خوشیوں میں ان غریب گھرانوں کی بیٹیوں کو بھی شریک کیا جائے گا جن کی شادیاں مالی مشکلات اور جہیز نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں۔
یقین کیجیے مسٹر پتلو کی شادی کی تمام تقریبات ایک طرف اور غریب بچیوں کے گھر بسانے کا یہ اقدام دوسری طرف۔
یہ وہ سوچ ہے جو کسی بھی انسان کو دوسروں کی نظروں میں عزت اور دلوں میں محبت عطا کرتی ہے کیونکہ شادی بیاہ پر لاکھوں روپے خرچ کرنا کوئی نئی بات نہیں مگر اپنی خوشیوں میں ان لوگوں کو شریک کرنا جن کے گھروں میں غربت کے باعث خوشیاں دستک دینے سے بھی گھبراتی ہیں ایک قابل تحسین عمل ہے۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسی بہت سی بیٹیاں موجود ہیں جو صرف غربت اور جہیز کی وجہ سے اپنے گھروں میں بیٹھی ہیں ان کے والدین کی آنکھوں میں اپنی بچیوں کو رخصت کرنے کے خواب تو ہیں مگر وسائل کی کمی ان خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ایسے میں اگر کوئی نوجوان اپنی شادی کی خوشیوں کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنا لے تو اس سے بڑھ کر خوشی اور کیا ہو سکتی ہے۔
مسٹر پتلو کی جانب سے شادی کی تقریبات کے دوران قرعہ اندازی کے ذریعے عمرے کے ٹکٹ اور موٹر سائیکلیں سمیت دیگر انعامات دینے کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں تاہم ان تمام تقریبات میں غریب بچیوں کی شادیوں میں مدد کرنے کا تصور سب سے زیادہ قابل توجہ ہے۔
اصل کامیابی شہرت کے چرچے نہیں بلکہ وہ دعائیں ہیں جو کسی مجبور کے دل سے نکلتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنا اپنی جگہ مگر اس شہرت کو کسی نیک مقصد کے لیے استعمال کرنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے اگر ہمارے معاشرے کے صاحب حیثیت افراد اور سوشل میڈیا سے وابستہ نوجوان اپنی خوشیوں میں غریب اور مستحق خاندانوں کو شامل کرنے کی روایت اپنائیں تو بہت سے گھروں کے حالات بدل سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جہیز جیسی فرسودہ رسم کی حوصلہ شکنی کی جائے اور بیٹیوں کی شادی کو والدین کے لیے بوجھ بنانے کے بجائے آسان بنایا جائے کیونکہ بیٹی کی عزت اور خوشیوں کا تعلق قیمتی جہیز سے نہیں بلکہ اچھے رشتے اور باعزت زندگی سے ہے۔
اللہ تعالیٰ مسٹر پتلو کے اس نیک ارادے میں برکت عطا فرمائے اور انہیں مزید ایسے کام کرنے کی توفیق دے جو دکھی انسانیت کے لیے آسانی کا سبب بنیں۔
اگر ہمارے نوجوان اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ دن دور نہیں جب غربت کسی باپ کو اپنی بیٹی کی شادی کے خواب سے محروم نہیں کر سکے گی اور کسی ماں کی آنکھ اپنی بچی کی رخصتی کے انتظار میں نم نہیں رہے گی۔
