​گزشتہ دنوں چودہ اکتوبر بروز بدھ کو سعودی عرب میں ایک بنگلہ دیشی جوڑے نذر الاسلام عبدالبصیراور سیتی اخترکو سزائے موت سنائےجانےکےبعد انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اس واقعے کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے اور سوشل میڈیا وغیرہ کے مختلف پلیٹ فارمز پر ہر طرف طوفانی بدتمیزی برپا ہے، سعودی عرب کو ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ان میاں بیوی کو پھانسی دے دی گئی جن کی صرف غلطی و قصور یہ تھا کہ انہوں نے مسجد میں اپنی بیوی کو بوسہ دیا تھا، جس کی یہ سزا نہیں بنتی۔ یوں ہر طرف سے اسلامی شعائر اور سعودی عرب کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ شواہد اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
​سعودی عرب کی میڈیا رپورٹس اور وہاں مقیم باخبر شخصیات کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کی روشنی میں حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ جوڑا نہ ہی شادی شدہ تھا اور نہ ہی وہ آپس میں میاں بیوی تھے، بلکہ دونوں کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔ وہ انفرادی طور پر سعودی عرب آ کر ملازمت کر رہے تھے اور بن لادن کمپنی میں ملازم ہونے کے ناطے حرم شریف میں ان کی صفائی کی ڈیوٹی تھی۔ دورانِ ڈیوٹی ان کے آپس میں تعلقات بنے اور رفتہ رفتہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ انہوں نے مسجد الحرام ہی کی حدود کے اندر اس گھناؤنے اور قبیح جرم کا ارتکاب کیا۔ جس کے بعد انہیں 2023 میں گرفتار کیا گیا اور اس وقت سے لے کر 2026 تک تین سالوں کے دوران مختلف عدالتوں میں ان کے کیسز چلتے رہے۔ بالآخر ثبوتوں اور ان کے اقرار کے بعد عدالت نے ان کے لیے سزائے موت مقرر کی اور شاہی حکم نامہ بھی اس حوالے سے توثیق کے لیےجاری ہوا جس کے بعد انہیں سزائے موت دی گئی۔
​یہاں سعودی عرب اور دین دشمنوں کی طرف سے جو پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا وہ یہ تھا کہ پہلے یہ بتایا گیا کہ یہ میاں بیوی تھے اور حجرِ اسود کے ساتھ عورت کو بوسہ دیتے ہوئے ایک تصویر چلائی گئی کہ اس کی وجہ سے انہیں سزائے موت ہوئی ہے۔ جبکہ نہ اس تشہیر کا اس واقعے سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ میاں بیوی تھے۔ اس بات کی تصدیق خود نذر الاسلام کے والد نے، جو بنگلہ دیش میں ہی رہتے ہیں، گزشتہ روز اپنے ویڈیو پیغام میں وضاحت کر کے کر دی کہ نذر الاسلام میرا بیٹا غیر شادی شدہ تھا اور اس عورت کو نہ ہم جانتے ہیں اور نہ یہ میری بہو تھی تو اس تصدیق کے بعد یہ پروپیگنڈا دم توڑ چکا ہے اوران لوگوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا چکا ہے جنہوں نے یہ قبیح حرکت کی ہے۔
​اس پر مزید یہ اشکالات کیے گئے کہ اسلام میں اس عمل کے لیے سزائے موت يا پھانسی نہیں ہے۔ اگر غیر شادی شدہ ہوں تو انہیں کوڑے لگائے جاتے ہیں اور اگر شادی شدہ ہوں تو انہیں سنگسار کیا جاتا ہے، جبکہ یہاں پر اس کے برعکس فیصلہ کیا گیا۔ تو اس حوالے سے سعودی حکام نے وضاحت کر دی کہ چونکہ انہوں نے یہ عمل مسجد الحرام میں کیا ہے اور مسجد کے تقدس کو پامال کیا ہےاور مسجد تو ویسے بھی اللہ کا گھر ہوتی ہے، اور پھر خصوصاً مسجد الحرام جو دنیا کی سب سے معزز اور مقدس جگہ اور مسجد ہےوہاں اگر ایسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا جائے گا تو اس کے لیے سعودی حکومت نے تعزیراً سزائے موت مجرموں کو سنا دی، جس کی شریعت میں گنجائش موجود ہے۔ ​سعودی عرب نے اسلامی احکامات کی روح اور اپنے اصولوں و ضوابط کے مطابق انہیں سزائے موت سنائی ہے، جس پر مخالفین پروپیگنڈا جاری کیے ہوئے ہیں لیکن ان تمام تر پروپیگنڈوں کا واقعے کے حقائق سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام کبھی بھی اس گھناؤنے اور قبیح عمل کی اجازت نہیں دیتا، اور پھر وہ بھی مسجد میں ہو اور مسجد بھی مسجد الحرام ہو! تو اس عظیم مسجد کے تقدس کو پامال کرنے کی پاداش میں اس سزا پر واویلا کرنا اور سعودی عرب کو موردِ الزام ٹھہرانا کسی بھی طور مناسب نہیں ہے۔
​ہر مذہب کی اپنی پالیسی ہوتی ہے اور ہر ملک کے اپنے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں، اس پر اس طرح کی بے جا تنقید قطعاً جائز نہیں سمجھی جائے گی۔ جہاں تک بنگلہ دیشی حکومت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے انہوں نے بھی سعودی حکام سے رابطہ کیا ہے۔
​سب سے اہم بات اس حوالے سے یہ بتائی جاتی ہے کہ سعودی عرب پردہ پوشی کے حوالے سے اس قدر عمل پیرا ہوتا ہے کہ اس گھناؤنے عمل کے باوجود مجرموں کی تصاویر اوریجنل طور پر شائع نہیں کی گئیں اور نہ میڈیا کو پیش کی گئیں، اور یہ ان کا اصول ہے کہ حتی الامکان ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مجرموں کی تصاویر کو منظرِ عام پر نہ لائیں جس کی اسلام میں بھی پردہ پوشی کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن کچھ اعمال اور کردار ایسے ہوتے ہیں جن کی اگر تشہیر بھی کی جائے تو اسے بھی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتاتاکہ دوسروں کےلئے وہ عبرت کانشان بنے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *