شہرقائد کی فضاؤں میں ایک عجیب سی اداسی، خوف اور خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ یہ وہ شہر اور پناہ گاہیں تھا جہاں کبھی خوشیاں بستیں تھیں، لیکن آج اسی شہر کی گلیوں اور محلوں سے مایوسی کی صدائیں آ رہی ہیں۔ لوگ روزگار نہ ملنے، مہنگائی اور تنگ دستی سے اس قدر عاجز آ چکے ہیں کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے پیاروں کا گلا گھونٹ رہے ہیں اور خود بھی ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے منہ موڑ رہے ہیں۔ یہ شہر، جو کبھی روشن اور امیدوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور جہاں لوگ دور دور سے روزگار کی تلاش میں آتے تھے، اب ایک ایسی معاشی قتل گاہ بن چکا ہے جہاں غریب اور متوسط طبقے کا انسان روزانہ اندر سے ٹوٹتا اور مرتا ہے۔
​بن قاسم ٹاؤن کے علاقے گلشن فلک ناز سوسائٹی کا دل دہلا دینے والا واقعہ ہو یا کچھ عرصے پہلے گلشن معمار احسن آبادکے فلیٹ میں ڈاکٹر عمر اور ان کے پورے خاندان کا دردناک خاتمہ،یہ چند حادثات نہیں بلکہ یہ اس فرسودہ اورناکام نظام کا سچ ہیں جو عوام کو جینے کا بنیادی حق دینے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
​اگر ہگلشن فلک ناز گلشن حدید کے واقعے پر نظر ڈالیں تو ایک بند فلیٹ میں پراپرٹی کا کام کرنے والے شاہ زیب نے پہلے اپنی بیوی صبا، بیس سال کی جوان بہن شمائلہ اور دو ننھی چھوٹی بچیوں ایزل اور آریہ کو زہر دیا اور پھر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی ختم کر لی۔ جائے وقوعہ سے ملنے والا خط چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ یہ خاندان کس قدر شدید مالی مسائل، بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ وہ خط اس بات کی گواہی ہے کہ کس طرح ایک انسان معاشی طور پر بالکل تنہا ہو جاتا ہے اور جب اسے کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو وہ اتنا بڑا قدم اٹھا لیتا ہے۔
​بالکل اسی طرح، کچھ عرصے پہلے گلشن معمار کے لکھانی ٹوئن ٹاور میں بھی ایسا ہی قیامت خیز منظر دیکھا گیا۔ وہاں ایک مسیحا، ڈاکٹر عمر، ان کی بیوی اور تین چھوٹی معصوم بچیاں اپنے ہی گھر میں مردہ حالت میں ملیں، جن کی لاشیں کئی دن پرانی ہو چکی تھیں۔ ڈاکٹر عمر ایک طرف کینسر جیسی خطرناک اور مہنگی بیماری کا شکار تھے اور دوسری طرف روزگار کی کمی، مالی تنگی اور ڈاکوؤں کے ہاتھوں اپنی جمع پونجی لٹ جانے کے صدمے سے نبرد آزما تھے۔ جب ہمارے معاشرے کا ایک پڑھا لکھا ڈاکٹر اور ایک پراپرٹی ایجنٹ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی، علاج اور سر چھپانے کی جگہ نہ دے سکنے کی وجہ سے اپنی پوری فیملی سمیت جان دینے پر مجبور ہو جائیں، تو ذرا سوچیں کہ ایک عام مزدور، فیکٹری ورکر، سیکیورٹی گارڈ یا رکشہ چلانے والے غریب کی زندگی کا کیا حال ہوگا وہ کس کرب اور تکلیف سے اپنے دن رات گزار رہا ہوگا​ہمارے ملک کا قانون، آئین اور ہماری اسلامی روایات یہ صاف صاف بتاتی ہیں کہ حکمران اپنی عوام کے نگران اور محافظ ہوتے ہیں۔ عوام حکومت کی رعایا ہے، اور رعایا کی دیکھ بھال کی تمام تر ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ جیسے ایک گھر کا بڑا اپنے بچوں کی روٹی، کپڑے، دوائی، اسکول کی فیس اور دیگر تمام ضروریات کا ذمہ دار ہوتا ہے، بالکل اسی طرح اقتدار کے ایوانوں اور بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے والے ان تمام حکمرانوں کی بھی پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے عام شہریوں کی زندگی کو آسان بنائیں۔ حکومت کا اصل کام اپنے ملک کے لوگوں کو خوشحال رکھنا، انہیں عزت کا روزگار دینا اور جینے کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔​لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج کے حکمرانوں اور پالیسی بنانے والوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ عام آدمی کس تکلیف اور عذاب سے گزر رہا ہے۔ حکمران طبقہ اپنے سیاسی فائدے، کرسی بچانے کے کھیل اور آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرطیں ماننے میں اتنا مصروف ہے کہ اسے غریب کی چیخیں سنائی ہی نہیں دیتیں۔​آج کے حالات یہ ہیں کہ بجلی کے بل، گیس کی قیمتیں، پیٹرول اور روزمرہ کے کھانے پینے کی تمام چیزیں اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ ایک عام نوکری پیشہ یا دیہاڑی دار انسان کی پوری تنخواہ صرف بجلی اور گیس کے بل بھرنے میں ختم ہو جاتی ہے۔ باقی پورے مہینے کا راشن، بچوں کی پڑھائی اور بیماری کا علاج تو دور کی بات ہے، گھر کا چولہا جلانا بھی محال ہو چکا ہے۔ دال، آٹا، چاول اور بچوں کے لیے دودھ خریدنا عام انسان کے لیے ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔​جب ایک باپ اپنے معصوم بچوں کو بھوک سے روتے اور بلکتے دیکھتا ہے، اسکول کی فیس نہ دینے پر بچوں کو اسکول سے نکالے جانے کے بعد ان کے آنسو دیکھتا ہے، اور اپنی بیمار بیوی کے لیے دوا نہیں خرید پاتا، تو اس کے اندر کا انسان ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ وہ شدید ذہنی دباؤ اور بیماری کا شکار ہو جاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اسے اس ظالم دنیا سے موت ہی واحد حل اور سکون کا راستہ دکھائی دینے لگتی ہے۔ روزگار کے تمام راستے بند ہیں، نئے کام دھندے شروع نہیں ہو رہے، اور جو پہلے سے موجود تھے وہ اس مہنگائی کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں۔ اس تمام تباہی اور معاشی بربادی کی سیدھی اور تمام تر ذمہ داری اس نااہل حکومت پر آتی ہے جس نے عوام کو ان کے حال پر اکیلا چھوڑ دیا ہے۔​حکمرانوں کو اب اپنی اس گہری نیند، غفلت اور بے حسی سے فوراً باہر نکلنا ہوگا۔ عوام کو یوں بے یار و مددگار چھوڑ دینا، ان کی مجبوریوں سے آنکھیں چرانا اور ان پر روز نئے ٹیکس اور مہنگائی کا بوجھ ڈالنا اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر مہنگائی کو کنٹرول کرنے، غریبوں کے لیے کوئی بڑا ریلیف دینے اور نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام نہ کیا، تو خودکشیوں اور قتل کے یہ دل دہلا دینے والے واقعات رکنے والے نہیں ہیں۔
​یہ گھروں کے اندر سے بند ہوتے ہوئے دروازے، لاچار شہریوں کے لکھے گئے آخری خط اور یہ بے جان لاشیں کل کو اس حکمران طبقے کا گریبان پکڑیں گی جو آج عوام کی تکلیف پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں، ورنہ یہ خاموش بددعائیں اور تباہی کا یہ طوفان پورے نظام کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *