۔اخترصدیقی
کبھی خود کے ساتھ بھی ڈیٹ پر جائیں۔۔۔۔۔۔
اپنے آپ کے ساتھ ڈیٹ پر جانا کوئی “وقت ضائع کرنا” نہیں ہے۔ یہ سب سے ضروری ملاقات ہے جو آپ زندگی میں کبھی کریں گے۔
ہم سب روز بھاگتے ہیں۔ نوکری، گھر، رشتے، سوشل میڈیا، نوٹیفکیشن۔ ہر ایک سے ملنے کا وقت ہے، ہر ایک کا حال پوچھنے کا وقت ہے۔ بس ایک شخص رہ جاتا ہے جس سے ہم مہینوں بات نہیں کرتے — وہ ہم خود ہیں۔
اپنے آپ کے ساتھ ڈیٹ کا مطلب آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر “تم کیسے ہو” پوچھنا ہے۔ بغیر جج کیے۔ بغیر یہ سوچے کہ دنیا کیا کہے گی۔
شروع کرنے کے لیے کسی بڑے پلان کی ضرورت نہیں۔ جمعہ کی شام فون سائلنٹ کر دیں۔ اکیلے کیفے چلے جائیں۔ وہ کافی آرڈر کریں جو آپ کو پسند ہے، نہ کہ جو “نارمل” لگتی ہے۔ کتاب ساتھ لے جائیں، یا بس کھڑکی سے باہر دیکھیں۔ کسی سے بات نہیں کرنی، کسی کو امپریس نہیں کرنا۔ صرف آپ اور آپ۔
پارک میں چہل قدمی کر لیں۔ مووی اکیلے دیکھ لیں۔ وہ کھانا کھائیں جو عرصے سے کھانے کا دل تھا۔ شہر کی وہ جگہ دیکھ آئیں جہاں ہمیشہ جانے کا سوچا تھا۔ نوٹ بک ساتھ رکھیں اور لکھیں: “آج مجھے کس چیز نے خوش کیا؟ کس چیز نے تھکایا؟ میں آگے کیا چاہتا ہوں؟”
جب آپ اپنے آپ کو وقت دیتے ہیں تو شور کم ہو جاتا ہے۔ آپ کو سمجھ آتی ہے کہ آپ واقعی کیا چاہتے ہیں، نہ کہ وہ جو باقی سب چاہتے ہیں۔ آپ کے فیصلے صاف ہو جاتے ہیں۔ رشتوں میں چڑچڑا پن کم ہو جاتا ہے کیونکہ آپ اپنی خالی بیٹری خود چارج کر لیتے ہیں۔
سب سے بڑی بات یہ کہ آپ کو پتہ چلتا ہے کہ اکیلا رہنا تنہائی نہیں ہے۔ اکیلا رہنا دوستی ہے۔ اپنے ساتھ دوستی۔
ہم دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں سمجھیں، ہمیں وقت دیں، ہمیں خوش رکھیں۔ لیکن جب تک ہم خود اپنے لیے وہ سب نہیں کریں گے، کوئی باہر والا کب تک کرے گا؟
اس ہفتے ایک ڈیٹ فکس کر لیں۔ ڈریس اپ ہوں۔ خود کو پھول لے کر دیں۔ سیلفی لیں۔ ہنسیں۔ غلطی کریں۔ رو لیں اگر دل کرے۔ پھر گھر آ کر خود سے وعدہ کریں کہ اگلے مہینے پھر ملیں گے۔
ایک دن آ کر آپ کو احساس ہو گا کہ آپ نے زندگی میں سینکڑوں لوگوں سے ملاقاتیں کیں، درجنوں رشتے نبھائے، ہر دعوت میں شرکت کی، ہر دوست کے مسئلے کا حل نکالا۔ لیکن ایک شخص تھا جس سے آپ کبھی صحیح طرح نہیں ملے۔ وہ شخص آپ خود تھے۔
ہم سب کی زندگی ایک لمبی دوڑ بن گئی ہے۔ صبح اٹھتے ہی موبائل، پھر کام، پھر گھر کے کام، پھر رشتہ داروں کے فون، پھر نیند۔ اس دوڑ میں ہم دوسروں کو خوش کرنے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اپنے دل کی آواز سننا ہی بھول جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کی پسند کا کھانا کھاتے ہیں، دوسروں کی سہولت کا وقت نکالتے ہیں، دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی خوشی قربان کر دیتے ہیں۔ اور پھر ایک دن تھک کر سوچتے ہیں کہ اندر کچھ خالی خالی سا ہے۔
یہ خلا صرف اپنے آپ کے ساتھ ڈیٹ سے بھرتا ہے۔
اپنے آپ کے ساتھ ڈیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود غرض ہو گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے پہلی بار خود کو اتنی اہمیت دی جتنی آپ دوسروں کو دیتے ہیں۔ یہ اس دن کی طرح ہے جب آپ کسی خاص دوست سے ملنے جاتے ہیں۔ کپڑے بدلتے ہیں، تیار ہوتے ہیں، وقت نکالتے ہیں، توجہ دیتے ہیں۔ بس اس بار وہ خاص دوست آپ خود ہیں۔
اپنے آپ کے ساتھ وقت گزارنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کا اندر کا شور کم ہو جاتا ہے۔ جب آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں تو دوسروں کے “لازمی ہے” اور “ایسا ہی ہوتا ہے” آپ کو ڈرا نہیں پاتے۔ آپ کے رشتے بہتر ہو جاتے ہیں کیونکہ آپ خالی برتن لے کر کسی کے پاس محبت مانگنے نہیں جاتے۔ آپ اپنا پیالہ خود بھر کر آتے ہیں اور پھر بانٹتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں اکیلے رہنے کو اکثر تنہائی سمجھ لیا جاتا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں “اکیلے کیوں جا رہے ہو؟” جیسے اکیلا جانا کوئی بیماری ہو۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اکیلا وقت گزارنا تنہائی نہیں، یہ خود دوستی ہے۔ جب آپ اپنے آپ کے ساتھ بور نہیں ہوتے، جب آپ کو اپنی کمپنی اچھی لگتی ہے، تو پھر آپ کسی پر انحصار نہیں کرتے کہ وہ آ کر آپ کی زندگی میں رنگ بھرے گا۔ہاں، شروع میں عجیب لگے گا۔ ویٹر پوچھے گا “صرف ایک؟” دوست کہیں گے “اکیلے مووی؟” دل بھی گھبرائے گا۔ لیکن دوسری ڈیٹ پر یہ گھبراہٹ آدھی رہ جائے گی۔ تیسری پر ختم۔ چوتھی پر آپ انتظار کر رہے ہوں گے کہ کب اگلی ڈیٹ آئے۔اس ہفتے خود سے وعدہ کریں۔ کیلنڈر میں ایک دن اور ایک وقت لکھ لیں۔ “ڈیٹ: میں اور میں”۔ اس دن نئے کپڑے پہنیں۔ خود کو پھول خرید کر دیں۔ اپنی پسند کا کھانا کھائیں۔ شہر کی چھت پر جا کر آسمان دیکھیں۔ واپس آ کر آئینے میں خود کو دیکھ کر کہیں “شاباش، تم نے بہت اچھا کیا”۔
یاد رکھیں، دنیا آپ سے روز کچھ نہ کچھ مانگے گی۔ وقت، توجہ، قربانی۔ اگر آپ نے خود کو وقت نہ دیا تو ایک دن دینے کے لیے کچھ بچے گا ہی نہیں۔
تو بتائیں، اس بار اپنی پہلی ڈیٹ آپ کہاں لے کر جائیں گے خود کو
