یمن کا نقشہ ایک بار پھر دھوئیں اور بارود کی لپیٹ میں ہے، جہاں یمن کی تپتی ہوئی اور دشوار گزار زمین پر ایک فیصلہ کن معرکہ اب اپنی انتہائی ہولناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ سعودی عسکری اتحاد اور یمنی فورسز نے مشترکہ اور بھرپور طاقت کے ساتھ آپریشن “فجر الیمن” کو جس وسعت اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا ہے، اس نے صعدہ سمیت تمام اہم اور حساس محاذوں پر باغی ملیشیا کے لیے زمین اتنی تنگ کر دی ہے کہ اب ان کے پاس پسپائی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔ یہ جنگ اب حوثیوں کو ہر قیمت پر گھٹنے ٹیکنے اور ان کے عسکری ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر مکمل توجہ دی جا رہی ہے۔ صعدہ کے اندر ڈھائی سو سے زائد جنگجوؤں کی ایک ساتھ ہلاکت اس بات کی گواہی ہے کہ اب ریاست اور اتحادی قوتیں کسی بھی لیت و لعل یا نرمی کے بغیر دشمن کو اس کا بدترین انجام تک پہنچانے کا عزمِ مصمم رکھتی ہیں۔​اس وسیع عسکری حکمت عملی کا سب سے نمایاں ہدف حوثیوں کو ایک ایسا نشانِ عبرت بنانا ہے تاکہ آنے والی تاریخ میں یہ واضح مثال قائم ہو سکے کہ ملکی خودمختاری، ریاستی رٹ اور بین الاقوامی سلامتی کو چیلنج کرنے والوں کا حشر کس قدر خوفناک ہوتا ہے۔ صعدہ کے اندر موجود بیلسٹک میزائلوں کے وسیع ذخائر، خفیہ اور زمین دوز اسلحہ ڈپوز، اور بارودی سرنگیں تیار کرنے والے کارخانوں اور فیکٹریوں کو جس طرح ایک ایک کرکے فضایی اور زمینی بمباری سے مٹی میں ملایا گیا ہے، اس نے باغیوں کی جنگی صلاحیتوں کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باب المندب کی انتہائی حساس اور بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ پر بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے جو سخت حفاظتی گشت، نیول ناکہ بندی اور فضائی نگرانی کا نظام فعال کیا گیا ہے، اس کا مقصد حوثیوں کے ان تمام مذموم عزائم کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملانا ہے جن کے ذریعے وہ سمندری تجارت کو یرغمال بنا کر عالمی معیشت کو بلیک میل کرنے کی گھناؤنی کوششیں کرتے رہے ہیں۔​تاہم، اس وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی اور خونریزی کے تار جب انسانی المیوں سے جڑتے ہیں، تو تصویر کا ایک اور انتہائی دردناک اور خوفناک رخ بھی سامنے آتا ہے جو جنگ کے بے رحم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مارب کے حساس علاقے میں فلاحی، انسانی اور امدادی سامان لے جانے والے معصوم ٹرکوں کو جس بے دردی اور سفاکی سے نشانہ بنایا گیا، اور اس کے نتیجے میں ایک بے گناہ پاکستانی ڈرائیور کی جان کا ضیاع ہوا، وہ اس بے اصول جنگ کا ایک مکروہ چہرہ ہے۔ اگرچہ اس المناک واقعے پر پاکستانی حکام کی جانب سے مکمل اور باضابطہ سرکاری تفصیلات اور ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، لیکن یہ امر طے ہے کہ اس میدانِ جنگ میں اب عام شہریوں، امدادی کارکنوں اور بے گناہ انسانوں کی جانوں کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی۔ یمنی فورسز کی فرسٹ ڈویژن کے بیانات سے یہ بات بالکل عیاں ہوتی ہے کہ روایتی میدانوں میں پے در پے شکست کھانے کے بعد حوثیوں نے اب مکمل طور پر بزدلانہ گوریلا حربوں، صحرائی راستوں کے خفیہ استعمال اور چھوٹے ڈرون حملوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے، جن کا واحد مقصد خطے میں بلاوجہ افرا تفری پھیلانا، خوف کا ماحول بنانا اور اپنی ہزیمت کے صدمے کو چھپانا ہے۔
​دوسری جانب، اس تنازعے کی گھمبیر آگ صرف یمن کی جغرافیائی اور داخلی حدود تک محدود نہیں رہی بلکہ سعودی عرب کی سرزمین کے اندر نجران اور جازان کے حساس ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملے اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ اب سرحدوں کے پار بھی اپنے ہولناک اثرات چھوڑ رہی ہے۔ سویلین تنصیبات کا نشانہ بننا، عام شہریوں کا زخمی ہونا اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنا بین الاقوامی جنگی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی ترین خلاف ورزی ہے۔ حوثی ترجمان کے دعوؤں کے برعکس کہ ان کے جوابی حملوں نے ریاض کے شاہ خالد ائیرپورٹ اور آرامکو کی معاشی تنصیبات کو نشانہ بنایا، زمینی اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ یہ بتاتی ہے کہ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے عسکری مورچوں پر تو کوئی منفی اثر نہیں پڑتا البتہ معصوم انسانی جانوں اور پبلک پراپرٹی کو شدید نقصان ضرور پہنچتا ہے۔
​مجموعی طور پر اور گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو حوثیوں کا گھیرا اب اس حتمی حد تک تنگ ہو چکا ہے کہ ان کے پاس فرار کا کوئی دروازہ کھلا نہیں ہے۔ اس جامع، مربوط اور فیصلہ کن عسکری کارروائی کا اصل اور بنیادی مقصد انہیں اتنی عبرت ناک شکست دینا ہے کہ وہ مستقبل میں کبھی بھی کسی بھی مہذب ریاست کی رٹ، امنگوں اور قانون کو چیلنج کرنے کی جرات نہ کر سکیں۔ لیکن اس سب کے باوجود، خطے میں پائیدار امن کے قیام، انسانی المیوں کے خاتمے اور ترقی کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ جنگ کے اس لامتناہی اور خونریز سلسلے کو بند کیا جائے، سنجیدہ نوعیت کے سیاسی اور سفارتی ڈائیلاگ کے دروازے کھولے جائیں، اور جنگ کی بجائے امن کی راہ اپنائی جائے تاکہ مزید کسی بے گناہ انسان کا لہو اس ظالم زمین پر رائیگاں نہ بہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *