خطے کی بدلتی ہوئی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال، ابھرتے ہوئے خطرات اور امن کو درپیش چیلنجز کےتناظر میں، مکہ دفاعی اتحادی کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس پیرکےروز سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہوا جس کے بعد ایک تفصیلی مشترکہ بیان جاری کر دیا گیا ہے۔ اس ہنگامی اجلاس کا بنیادی ہدف سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ سٹریٹجک خطرات کا نہایت مؤثر اور ٹھوس انداز میں مقابلہ کرنا تھا۔ اجلاس کے دوران طے پانے والے فیصلوں کے مطابق، تمام اتحادی ممالک نے باضابطہ طور پر یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں اپنے فوجی دستے تعینات کریں گے اور وہاں امن و امان کے قیام اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی عسکری قوت، وسائل اور تمام تر صلاحیتیں بھرپور انداز میں فراہم کریں گے۔​ٹی جی وی کے معتبر ذرائع کے مطابق، دفتر خارجہ نے مکہ دفاعی اتحادی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا یہی مشترکہ اعلامیہ باضابطہ طور پر جاری کر دیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں برادر ملکوں کے درمیان دفاعی اور سیاسی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا، جس میں خصوصیت کے ساتھ سعودی عرب، پاکستان اور جمہوریہ ترکیہ کے اعلیٰ ترین حکام اور نمائندوں نے بھرپور شرکت کی اور خطے کے اجتماعی دفاع کے لیے ایک مربوط اور پائیدار لائحہ عمل پر اتفاق کیا۔
​اس ہنگامی اجلاس کے اعلامیے کا ایک اور انتہائی اہم پہلو مکہ دفاعی اتحادی کے سیکرٹری جنرل کی تقرری کے معاملے پر تمام رکن ممالک کا مکمل اتفاق رائے کا اظہار کرنا تھا۔ اس پر وقار موقع پر تمام اراکین نے متفقہ طور پر نعمان محمود کو اس باوقار اور ذمہ دارانہ عہدے پر فائز کیے جانے اور ذمہ داری ملنے کا انتہائی پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اجلاس کے جملہ شرکاء نے اس پختہ امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی ان نئی اور گراں قدر ذمہ داریوں کو انتہائی خوش اسلوبی اور قابلیت کے ساتھ نبھائیں گے، اور اس اہم ترین منصب پر ان کی کامیابی کے لیے خلوص دل سے نیک تمناؤں اور نیک خواہشات کا بھرپور اظہار کیا۔دوسری طرف​خطے کے ایک اور انتہائی حساس محاذ یعنی یمن کے اندر صورتحال انتہائی ڈرامائی، تیز اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں ‘ایلسن’ کے نام سے ایک وسیع، کثیر الجہتی اور زبردست فوجی آپریشن پوری عسکری طاقت اور شدت کے ساتھ جاری ہے۔ تازہ ترین جنگی اور عسکری اطلاعات کے مطابق، سرکاری فورسز نے آبنائے باب المندب اور صوبہ تعز کے مغرب میں واقع انتہائی کلیدی شہر ‘موخا’ کا مکمل کنٹرول کامیابی کے ساتھ اپنے ہاتھ میں سنبھال لیا ہے۔ یہ پیش رفت یمن کے اس خطے میں عسکری توازن کو یکسر تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
​عرب میڈیا سے موصول ہونے والی مفصل اطلاعات کے مطابق، یمنی فضائیہ نے دارالحکومت صنعاء کے اندر موجود ملیشیا کے مختلف خفیہ ٹھکانوں، کمین گاہوں اور عسکری تنصیبات پر شدید بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں جانی و مالی دونوں صورتوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یمنی فوج کی جانب سے جنوبی شہر ‘موخا’ کی سمت زمینی پیش قدمی بھی انتہائی تیزی اور جانفشانی کے ساتھ جاری ہے تاکہ باقی ماندہ علاقوں کو بھی کلیئر کیا جا سکے۔​
​عرب میڈیا نے اپنی رپورٹس میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ تعز کے حساس علاقے میں حوثیوں کا پچاس سے زائد گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑا اور مسلح قافلہ ‘لساپا’ کے راستے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس کی نقل و حرکت پر فضائی اور زمینی سطح پر انتہائی گہری، طویل المدتی اور کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ یمن کے اندر جاری اس نئے، وسیع اور فیصلہ کن عسکری آپریشن ‘ایلسن’ کے باضابطہ آغاز کا اعلان اتحادی افواج کی جانب سے کر دیا گیا ہے، جو زمینی اور فضائی دونوں محاذوں پر انتہائی فعال انداز میں پیش قدمی کر رہا ہے۔​اتحادی افواج کے ترجمان نے میڈیا کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ آج صبح کے وقت شروع ہونے والے اس مربوط آپریشن میں ایک سو جدید جنگی طیاروں نے بھرپور انداز میں حصہ لیا اور دشمن کے ٹھکانوں پر تباہ کن فضائی حملے کیے۔ اس بڑے پیمانے پر کیے جانے والے فضائی حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی دشمن کے تین سو چوبیس اہم ترین اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بناتے ہوئے مکمل طور پر خاکستر اور تباہ کر دیا گیا۔
​ترجمان نے اس عزم کو مزید واضح کیا کہ اتحادی افواج یعنی باقاعدہ مسلح افواج، زمینی کارروائیوں میں حصہ لینے والے تمام عسکری دستوں کو مکمل، بر وقت اور مسلسل فضائی مدد فراہم کر رہی ہیں تاکہ زمینی پیش قدمی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ، اسٹریٹجک، دفاعی اور عالمی تجارت کے نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب کو بھی کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے فول پروف اور مضبوط فضائی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہےاجلاس کےدوران یہ بڑی کامیابیاں یقیناً خوش آئنداورتسلی بخش ہےجس سےاب امیدکی جارہی ہےکہ حوثیوں کاقلع جلدقمع ہونےوالاہےاب فیصلہ کن گھڑی آچکی ہےکہ تحفظ حرمین شریفین کی خاطرحوثی باغیوں کی عقل کوٹھکانےلایاجائےکیونکہ حرمین شریفین امت مسلمہ کی ریڈ لائن ہےجس پرامت مسلمہ کسی قسم کا سمجھوتہ اورلچک دکھانےکےلئےتیارنہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *