وزیر اعلیٰ صوبہ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں عمران خان کی حکومت ہے، ہم اس کے علاوہ کسی کی حکومت نہیں مانتے۔ بند کمروں کے فیصلوں کو قبول نہیں کر سکتے۔ ہم پہلے بھی باغی تھے ، اب بھی باغی ہیں۔ پختونوں کو مزید نقصان سے دوچار نہیں کیا جا سکتا اور یہاں آپریشن نہیں ہوگا۔ کسی صورت اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ نہ ایمرجنسی کو مانتے ہیں اور نہ گورنر راج کو۔ انہوں نے یہ خطاب بذریعہ ہیلی کاپٹر لکی مروت پہنچنے کے بعد مارچ کے ابتدائی مراحل میں شرکاء سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ شروع ہو چکا ہے اور قائد سے ملاقات تک یہ مارچ جاری رہے گا۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے توہین عدالت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح طور پر ہدایات جاری کی ہیں کہ سرکاری وسائل کو کسی بھی صورت سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، لیکن وزیر اعلیٰ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیاسی مقاصد کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا ہے اور ہیلی کاپٹر پر لکی مروت گئے ہیں، جو کہ توہین عدالت ہے۔ انہوں نے بھی واضح موقف اختیار کیا کہ کسی کو ملک کے امن و امان یا صوبے کے حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بظاہر اگر دیکھا جائے تو اس سیاسی کشمکش کا نقصان دونوں صورتوں میں ملک اور قوم ہی کا ہو رہا ہے۔ یہ سیاسی رسہ کشی ملکی اور قومی مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔ چاہے جیت وزیر اعلیٰ کی ہو یا گورنر کی، کامیابی جس کے پلڑے میں بھی گر جائے، لیکن بہرحال نقصان ملک ہی کا ہوگا۔ کئی دنوں سے لانگ مارچ کے اس قضیے نے ملکی سیاسی ماحول کو انتہائی گرما دیا ہے۔ پورے ملک کی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کہیں پر بھی کوئی امن و امان کی صورت برقرار نظر نہیں آ رہی۔ خاص طور پر اسلام آباد کے باہر داخلی راستوں کو محدود کر دیا گیا ہے، رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئی ہیں تاکہ کسی قسم کا انتشار پیدا نہ ہو۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہاں تک اعلان کر دیا ہے کہ اگر مارچ میں کوئ ایک جانی نقصان بھی ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری سہیل آفریدی پر ہوگی۔ اس بڑے ذمہ دارانہ بیان کے بعد حالات اور بگڑنے کی طرف جا رہے ہیں، جس کا سدباب ضروری ہے۔ ایک طرف لانگ مارچ جاری ہے، دوسری طرف حکومت کی طرف سے امن و امان کے حوالے سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں معمولی سی کشیدگی بھی بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، اس لیے اس صورتحال کو مزید آگے بڑھنے سے روکنا ضروری ہے۔
دونوں فریقین کو ملک اور قوم کے عظیم تر مفاد میں اپنے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور ملک اور قوم کے مفاد میں ہی اپنے قدم آگے بڑھانے ہوں گے۔ اگر بظاہر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ کا ایک ہی اصل مطالبہ ہے کہ قائد سے ہماری ملاقات کرائی جائے، جو بظاہر اتنی معنی نہیں رکھتی اور حکومت اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو ان کا یہ مطالبہ بآسانی پورا کیا جا سکتا ہے، جس سے باقی معاملات حل کی طرف جائیں۔
لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو وزیر اعلیٰ کی طرف سے اسی مطالبے پر پورے ملک کو انتشار کی طرف لے جانا، پورے صوبے کو اور اس کی حکومت کو داؤ پر لگا دینا اور صوبے کی عوام کو نئی مشکل میں ڈال دینا اور نئے امتحان سے آزمانا، یہ بھی کسی طور مناسب نہیں ہے۔ ایک مطالبے کے لیے اگر حالات اس حد تک پہنچ جائیں کہ پورے ملک میں بے چینی پیدا ہو، راستے بند ہوں، رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اور امن و امان کے حوالے سے خدشات پیدا ہوں تو اس صورتحال پر بھی غور کرنا ہوگا۔
دونوں فریقین اگر ملک اور قوم کی بہتری چاہتے ہیں تو انہیں بہرصورت ٹیبل ٹاک کے ذریعے فیصلہ کن صورت اختیار کرنا ہوگی، جس سے ملک کی بہتری سامنے آئے۔ دونوں کو اپنے اپنے مطالبات اور اپنی پالیسیوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا اور سیاسی مصلحت کے ذریعے اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔ صرف اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ رہے گا۔
یہ ملکی سیاسی افراتفری بہرصورت نقصان دہ ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ موجود رہ سکتا ہے، مطالبات بھی اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن ملک اور قوم کے مفاد کو ہر صورت سامنے رکھنا ہوگا۔ اگر ایک طرف وزیر اعلیٰ یہ کہتے ہیں کہ کسی صورت آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو مانتے ہیں تو دوسری طرف حکومت اور گورنر کی طرف سے بھی امن و امان اور سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ سامنے رکھا جا رہا ہے۔ اس پوری صورتحال میں دونوں طرف کے مؤقف اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس کا حل بہرحال نکالنا ہوگا۔
اسلام آباد میں داخلوں کو محدود کرنا، رکاوٹیں کھڑی کرنا اور مارچ کے دوران کسی بھی جانی نقصان کی ذمہ داری کے حوالے سے بیان دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ اس لیے اب مزید کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے اس مسئلے کو حل کرنے کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے۔
دوسری طرف وزیر اعلیٰ کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کے مطالبے کی بنیاد پر پورے صوبے کو اور اس کی حکومت کو داؤ پر لگانا اور صوبے کی عوام کو نئی مشکل میں ڈالنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔
اگر دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے قدم آگے بڑھاتے ہیں تو اس کا نقصان بہرحال ملک اور قوم ہی کا ہوگا۔ چاہے کامیابی کسی ایک فریق کے حصے میں آئے، لیکن اگر اس دوران امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی ہے، لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ملک میں مزید سیاسی افراتفری پیدا ہوتی ہے تو اس نقصان کا ازالہ آسان نہیں ہوگا۔
اس موجودہ ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیے اب یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کسی غیر جانبدار فریق کو آگے آ کر ثالثی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر دونوں فریق براہ راست بات چیت کے ذریعے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہے تو کسی غیر جانبدار فریق کے ذریعے دونوں کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس سے کم از کم بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے اور موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ملک اور قوم کے مفاد میں اب یہی ضروری ہے کہ دونوں فریقین اپنے اپنے مطالبات اور اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور سیاسی مصلحت کے ذریعے اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ کسی ایک فریق کی کامیابی یا دوسرے فریق کی ناکامی سے زیادہ اہم ملک اور قوم کا مفاد ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حالات کو مزید خراب ہونے سے روکا جائے اور اس موجودہ سیاسی کشمکش کو بات چیت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ یہ ملکی سیاسی افراتفری بہرصورت نقصان دہ ہے
