پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے خلاف نہ صرف الزامات بلکہ انہیں کرکٹ سے دور کرنے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ پہلے ان پر سنگین الزامات لگائے گئے، الزامات بھی وہ جنہیں وہ ایک عرصہ قبل اپنے کردار سے ختم کر چکے ہیں۔ جوئے کے الزامات ، آن لائن بیٹنگ کے الزامات ان پر لگائے گئے ہیں، جبکہ وہ اس سے قبل اپنی شرٹ پر ان جوؤں کے لوگوں تک لگانے کے لیے تیار نہیں تھے اور اسے ٹیب لگا کر چھپاتے تھے اور اس کی وجہ سے جرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے صرف اسے پروموٹ کرنے سے انکار کیا۔ آج اسی حوالے سے جسے انہوں نے خود مسترد کیا تھا، اسی کے حوالے سے ان کے اوپر سنگین قسم کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔کبھی ڈسپلن کا بہانہ بنا دیا جاتا ہے، کبھی ناقص کارکردگی کا بہانہ بنا دیا جاتا ہے، لیکن اس سب کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں، ابھی تک وہ سامنے نہیں آ سکیں ہیں اور اس قوت نے پاکستانی کرکٹ کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ نہ صرف رضوان کی انفرادی کارکردگی کو ختم کر دیا ہے بلکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو مجموعی طور پر وہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں سے دوبارہ اٹھنا اس کے لیے بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔کل پاکستان کے معروف صحافی انصار عباسی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ میری معلومات کے مطابق کچھ کھلاڑیوں کو مسجد میں نماز پڑھنے جانے سے روکا گیا تو باقی کھلاڑی تو رک گئے، لیکن رضوان چلے گئے نماز پڑھنے، اور جو کھلاڑی رک گئے وہی اس کے گواہ بھی ہیں کہ اس بات کو بڑھا کر رضوان کے خلاف کارروائی شروع ہوئی، اور اس سے قبل بھی رضوان کی نمازیں پڑھنا یا دینی حوالے سے کوئی اجتماعات وغیرہ مساجد میں جا کر کرنا، دینی ترغیبات دینا کھلاڑیوں کو، اس پر مقتدر حلقوں میں، کرکٹ ٹیم کے سرکردہ نمائندوں میں سخت تشویش پائی جاتی تھی، جو کہ بظاہر آئین پاکستان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔لیکن انہوں نے ان چیزوں کی آڑ میں پہلے تو محمد رضوان کو ٹی ٹوئنٹی کپتانی اورپھر ٹیم سے ہٹا دیا، اس کے بعد ون ڈے کپتانی سے ہٹا دیا، پھر ٹیم سے ہٹا دیا اور آخرکار ٹیسٹ سے بھی باہر بھیج دیا۔جب ایک انسان کتنا ہی بہترین کارکردگی دکھانے والا کیوں نہ ہو، لیکن جب ان کے ساتھ اس طرح ذلت آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو طاقتور سے طاقتور انسان بھی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے، احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور جب انسان احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے تووہ کسی بھی قسم کی کارکردگی نہیں دکھاسکتاخواہ کتنی بھی کوشش کرے, رضوان کی خراب پرفارمنس اور کارکردگی کی اصل وجہ بھی ان کو اس طرح چیزوں کا سامنا کرنا ہے۔ جب انہیں احساس کمتری میں مبتلا کر دیا گیا ہے تو اس پوزیشن میں وہ کس حوالے سے کارکردگی دکھاسکتےہیں
وہ کھلاڑی جنہوں نے انٹرنیشنل سطح پر دو تین سال پاکستان کے لیے نمایاں خدمات دیں، دنیا کے عظیم وکٹ کیپر بلے بازوں میں سے ایک ہیں اور شاید اس وقت ان کا متبادل بھی کوئی نہیں ہے۔ پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ چھکے مارنے والے انٹرنیشنل میچوں میں بھی یہی محمد رضوان ہیں، لیکن اسے دینداری کی خاطر بہانہ بنا کر کسی اور چیز میں ملوث کرنا یا اس کا الزام لگانا کسی بھی طور معاف نہیں کیا جا سکتا۔
انصار عباسی نے اپنے ٹویٹ میں یہاں تک لکھا کہ اگر ان پر الزام ہی لگانا تھا تو کسی بھینس چوری کا الزام لگا دیا جاتا، جس چیز کا الزام لگا رہا ہے، اس چیز کے تو وہ شروع سے مخالف ہیں، اور اصل جس چیز کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ٹیم سے باہر کر دیا گیا، وہ ان کی دینداری ہے۔
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اگر یہ بات درست ہےتو اس حوالےسے وزیراعظم کو اعلیٰ سطح پر اس کی تحقیقات کرانی چاہئیں اور بلکہ قوم تو یہاں تک کہہ رہی ہے کہ تحقیقات کرا کر اعلیٰ سطح پر اس میں جو بھی مرکزی مجرمان ہیں، چاہے وہ کسی بھی سطح کے ہوں، ان کو پھر کیفرکردار تک پہنچانا ہوگا، کیونکہ صرف دینداری کی وجہ سے انہیں اس طرح ٹیم سے باہر کر دینا اور ذلت کا سامنا کروانا، کسی بھی طور پاکستان کے اسٹار کے ساتھ مناسب رویہ نہیں ہے۔
آخر وہ کون سی طاقت ہے جو کرکٹ میں ہوتے ہوئے یا کرکٹ سے باہر ہے، لیکن ان کے اس فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم اس حد تک گر چکی ہے کہ اسے اٹھنے کے لیے اب برسوں درکار ہوں گے۔ بنی بنائی ٹیم کو اس طرح بگاڑنا اور جان بوجھ کر اسے ختم کر دینا یہ پاکستان کے ساتھ کھلی دشمنی کے مترادف ہے، چاہے وہ شخصیات کوئی بھی ہوں۔ اس کی اعلیٰ سطح تحقیقات ہونی چاہئیں اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
اگر محمد رضوان کو صرف دینداری کی خاطر اس طرح تنقید کا نشانہ بنا کر باہر کر دیا گیا ہے اور ان کا یہ منصوبہ ہے کہ اس طرح ہم کامیاب ہو جائیں گے تو یہ پاکستان اور پاکستان کے آئین کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔اگر پاکستان کے دوسرے کھلاڑی سینماؤں میں جا سکتے ہیں، شاپنگ مالوں میں جا سکتے ہیں تو کیا وہ فرض نماز کے لیے مسجد میں نہیں جا سکتے یہ رویہ ختم کر دینا ہوگا۔ کرکٹ کو سیاست سے اور مذہبی تعصب سے پاک کرنا ہوگا، تبھی ہماری کرکٹ کو ترقی ملے گی۔ضرورت اس امر کی ہےکہ محمدرضوان کو پریس کانفرنس کی اجازت دی جائے تاکہ وہ خود کھل کراپنےخلاف لگائےگئےالزامات کےنہ صرف جوابات دیں بلکہ ان کرداروں کوبھی بےنقاب کریں جومذھبی تعصب کی بناءپران کےساتھ اس طرح رویہ رکھےہوئےہیں
