وزیراعظم میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے انتہائی جرات مندانہ، پرمغز اور امت مسلمہ کے اجتماعی موقف کے حوالے سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کی ابتدا سورۃ النور کی آیت نمبر 27 سے کی، جس میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم کسی اور کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ اس آیت کا مقصد واضح ہے کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت جانا ممنوع ہے۔
مبصرین کے مطابق میاں شہباز شریف کا اشارہ مسلمانوں کے اجتماعی گھر مکہ المکرمہ اور حرمین شریفین کی طرف تھا۔ یہ منافقین اور دشمنوں کو بتانا تھا کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا منع ہے تو اس پر حملہ کرنا کس زمرے میں آتا ہے۔ اسی کے ساتھ میاں شہباز شریف نے اپنی تقریر میں واضح الفاظ میں کہا کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں، اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم کی اس تقریر سے دنیا بھر میں مسلمانوں کی آوازایک بارپھر دنیا تک پہنچی ہے۔ ایک ایسی جنرل اسمبلی میں، جس میں دنیا بھر کے مندوبین بیٹھے ہوں، اس طرح کا جرات مندانہ موقف پاکستان کی جرات کو ثابت کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ حرمین شریفین کے حوالے سے اپنے جذبات، محبت اور عقیدت کا اظہار کیا ہے اور آج بھی پاکستان کا یہی موقف ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔میاں شہباز شریف نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ مکہ معاہدہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں ہے اور ہم سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت، عقیدت اور بھائی چارے کا رشتہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ پاکستان کا روز اول سے حرمین شریفین کے ساتھ دلی محبت، عقیدت اور اس کے تحفظ کے لیے مر مٹنا شامل ہے، چاہے وہ عوامی سطح پر ہو یا حکومتی سطح پر ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کی تقریر میں کشمیر کے حوالے سے بھی وہی مضبوط موقف پیش ہوا جوکئ سالوں سے آ رہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، شہ رگ تھا اور شہ رگ رہے گا۔ اقوام متحدہ اس کے منصفانہ حل پر کام کرے، کیونکہ کئی سالوں سے مظلوم کشمیری عوام عالمی دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اپنی مظلومیت کی آواز ان تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ اس حوالے سے منصفانہ فیصلہ کرے اور مظلوم کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کی ہے اور وزیراعظم میاں شہباز شریف نے بھی جنرل اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں پاکستان کے اسی دیرینہ موقف کو دنیا کے سامنے دہرایا۔ مظلوم کشمیری عوام کئی سالوں سے عالمی دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے، ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے۔ساتھ ساتھ بھارت کو ایک دفعہ پھر خبردار کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہندوستان نے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اسے روکنے کی کوشش کی تو ہم اسے اعلان جنگ تصور کریں گے۔ انڈیا یہ جان لے کہ پچھلے سال جو انہوں نے غلطی کی تھی اور اس کا جو جواب دیا گیا تھا، وہ صدیوں تک انہیں یاد رکھنا ہوگا۔ پاکستان نے یہ بات واضح کردی ہے کہ پانی کو کسی بھی صورت میں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ابنائے ہرمز اور باب المندب کے حوالے سے بھی واضح موقف پیش کیا اور کہا کہ یہ دونوں کھلے رکھنے چاہئیں اور ان کا بند رکھنا عالمی معیشت کے لیے ٹھیک نہیں، کیونکہ یہ عالمی معیشت کی رگیں ہیں، انہیں کھلا رکھنا ناگزیر ہے۔ دنیا کی معیشت کے لیے ان راستوں کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور وزیراعظم نے عالمی فورم پر اس حوالے سے بھی پاکستان کا موقف واضح انداز میں پیش کیا۔
وزیراعظم کی تقریر جامع تقریر تھی اور جرات مندانہ موقف تھا پاکستان کی طرف سے۔ انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں کامیاب جنگ کو بھی عاصم منیر کا کارنامہ قرار دیا۔ پاکستان کی جانب سے عالمی فورم پر اپنے موقف کو اس انداز میں پیش کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے قومی اور امت مسلمہ کے اجتماعی معاملات کے حوالے سے اپنا موقف دنیا کے سامنے واضح انداز میں پیش کرتارہےگااس کے ساتھ ساتھ بیت المقدس کے لیے بھی پاکستان کی آواز اسی طرح آج اس اجلاس میں بلند ہوئی۔ وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ وہاں بربریت اور ظلم کی انتہا ہے۔ اس کے حل کے لیے ضروری ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو اور القدس اس کا دارالحکومت ہو، یہی اس کا حل ہے۔
فلسطین کے مظلوم عوام کے حوالے سے بھی پاکستان کا موقف واضح ہے کہ ان کے مسئلے کا حل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے وزیراعظم نے عالمی دنیا کے سامنے پاکستان کی اسی آواز کو بلند کیا اور مطالبہ کیا کہ فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم میاں شہباز شریف کی تقریر میں حرمین شریفین، سعودی عرب، کشمیر، بھارت، پانی، ابنائے ہرمز، باب المندب اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے آیا۔ یہ وہ معاملات ہیں جن پر پاکستان طویل عرصے سے اپنا موقف پیش کرتا چلا آ رہا ہے اور وزیراعظم نے بھی عالمی فورم پر اسی موقف کو جرات کے ساتھ پیش کیا۔
وزیراعظم کی یہ تقریر ایک جامع تقریر تھی جس میں پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنا موقف واضح انداز میں رکھا اور امت مسلمہ کے اجتماعی موقف کو بھی دنیا تک پہنچایا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس بڑے عالمی فورم پر پاکستان کی جانب سے حرمین شریفین اور فلسطین سے لے کر کشمیر اور دیگر اہم عالمی معاملات پر بات کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ان معاملات پر اپنا موقف دنیا کے سامنےہمیشہ جرات کےساتھ پیش کرتا رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *