تحریر۔۔اخترصدیقی
محبت انسان کا قدیم ترین اور مقدس ترین احساس ہے، مگر دورِ حاضر میں اس جذبے کے اظہار اور زاویۂ نظر میں وہ بنیادی تبدیلی آ چکی ہے جو ماضی کی دھیمی آنچ اور آج کی تپش میں حائل ہے۔ ماضی کا عشق ضبط، صبر اور طویل انتظار سے جلا پاتا تھا جہاں خط کا انتظار، کسی راہ گزر پر چند لمحوں کی جھلک، اور نگاہوں کا شرمیلا تبادلہ ہی محبت کی معراج بن جاتا تھا۔ جیسے شاعر نے اس زمانے کے حسنِ ضبط کی تصویر کشی کی تھی:
کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
اس دور میں جذبات کا برتاؤ ایک نازک شیشے کی مانند تھا جس میں تسلسل، گہرائی اور حرمت کو اولین ترجیح حاصل تھی۔ محبوب کی خاموشی میں بھی ایک دلکش گفتگو پوشیدہ ہوتی تھی اور رابطے کا فقدان کبھی اعتماد میں رخنہ نہیں ڈالتا تھا، کیونکہ اس زمانے میں محبت کی بنیاد جذبات کی سچائی پر تھی نہ کہ لمحاتی ظہور پر۔
آج کی تیز رفتار اور ٹیکنالوجی سے لیس دنیا میں محبت کے اظہار کا اسلوب بالکل بدل چکا ہے۔ سوشل میڈیا، فوری میسجنگ، اور ایموجیز نے جذبات کی ترسیل کو انتہائی آسان اور تیز تو بنا دیا ہے، مگر اسی عجلت نے لفظوں کا وہ وزن اور تاثر کم کر دیا ہے جو ماضی کا طرۂ امتیاز تھا۔ اب گھنٹوں کی تپش اور مہینوں کے انتظار کی جگہ صرف چند سیکنڈز کے لائیک اور کمنٹس نے لے لی ہے۔ اسی فوری پن اور جذبات کے سستے ہو جانے کا ماتم کسی نے یوں کیا تھا:
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
لیکن آج کا انسان کتابوں میں پھول رکھنے کے بجائے ایک کلک پر تصویر بھیج دینے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس آسان رابطے نے گفتگو سے وہ پراسرار سحر اور چاشنی نچوڑ لی ہے جو دلوں کی تڑپ کو بڑھایا کرتی تھی اور جس کے بارے میں کہا گیا تھا:
خط ان کا بہت خوب، عبارت بہت اچھی
حرفوں کی بناوٹ بھی ہے سچی، مگر اے کاش!
اس خط میں وہ جذبہ بھی ہو جو دل کو چھو جائے
اس واضح فرق کی سب سے بڑی وجہ زندگی کا بدلا ہوا لائف سٹائل اور بدلتی ہوئی سماجی قدریں ہیں۔ ماضی کا معاشرہ صبر، ٹھہراؤ اور تسلیم و رضا کا مجسمہ تھا جہاں رشتے بنانے میں وقت لگتا تھا اور نبھانے میں زندگیاں گزر جاتی تھیں۔ اس کے برعکس موجودہ دور کی زندگی مادی ریس اور عارضی تسکین کا نام بن چکی ہے جہاں ہر چیز فوری استعمال اور بدلاؤ کے اصول پر چلتی ہے۔ اس رجحان نے ہمارے جذباتی رویوں کو بھی گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ اب لوگ اپنی انا کی تسکین اور فوری توجہ کے طالب ہیں، جبکہ ماضی میں محبت کا مطلب ہی اپنی ذات کو مٹا کر محبوب کی خوشی میں ڈھل جانا تھا، بالکل اسی جذبے کی طرح:
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
اس فرق کو محض کسی ایک دور کی فتح یا شکست قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ انسان کی جذباتی ضروریات کا عکاس ہے۔ آج کا انسان اگرچہ اپنے جذبات کو الفاظ اور ذرائع کے طوفان میں ببانگِ دہل ظاہر کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، مگر اسے یہ یاد رکھنا ہوگا کہ محبت کی روح انڈرسٹینڈنگ، باہمی احترام اور گہرائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب تک اظہار کے ان جدید طریقوں میں ماضی والا خلوص، سچائی اور صبر شامل نہیں ہوگا، تب تک محبت کا یہ سفر ٹیکنالوجی کے تلاطم کے باوجود جذباتی طور پر تشنہ اور ادھورا ہی رہے گا
