امریکا ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے سفارتی سرگرمیاں تیز، قطر کا اہم بیان
دوحا: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ قطر نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان بات چیت بحال کرانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان بھی اس سفارتی عمل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق دوحا کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے مسلسل رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قطری ثالثی ٹیم دونوں فریقین سے رابطے میں ہے اور مختلف ممکنہ راستوں پر بات چیت کے ذریعے مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ماجد الانصاری نے بتایا کہ ثالثی کی کوششیں صرف ایک مقام تک محدود نہیں بلکہ متعلقہ فریقین اور مختلف دارالحکومتوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قطری حکام دونوں جانب کے مؤقف کو سمجھنے اور ایسے نکات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر دوبارہ مذاکرات کا عمل شروع کیا جاسکے۔
قطر اور پاکستان کا سفارتی کردار
قطر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں تاکہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کو کم کرنے اور بات چیت کے ذریعے کسی ممکنہ حل کی طرف پیش رفت کی جاسکے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ثالثی کے لیے مختلف تجاویز زیر بحث ہیں، تاہم ان تجاویز کی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی کا بنیادی مقصد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا ہے۔
ماجد الانصاری کے مطابق قطری ثالث مختلف دارالحکومتوں کے درمیان سفر بھی کر رہے ہیں تاکہ امریکی اور ایرانی حکام سے براہِ راست رابطہ رکھا جاسکے اور سفارتی کوششوں میں پیدا ہونے والے خلا کو کم کیا جاسکے۔
واشنگٹن کی جانب سے معاہدے کی خواہش کا اظہار
قطری ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ دوحا کو امریکی انتظامیہ کے حکام کی جانب سے ایسے اشارے اور یقین دہانیاں موصول ہوئی ہیں کہ واشنگٹن کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ قطر کی جانب سے اس معاملے میں سفارتی رابطوں کا سلسلہ اسی مقصد کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکیں۔
قطری حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ علاقائی بحران کے حل کے لیے براہِ راست یا ثالثی کے ذریعے مذاکرات کی راہ تلاش کرنا ضروری ہے۔ قطر پہلے بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی دوحا سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
علاقائی سطح پر حل کی ضرورت
ماجد الانصاری نے خطے میں استحکام کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کا پائیدار حل صرف کسی ایک ملک کے اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور وسیع تر بین الاقوامی اتفاقِ رائے درکار ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے بالخصوص اہم سمندری راستوں کے تحفظ اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بات کی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سمیت اہم آبی گزرگاہوں میں معمول کی بحری سرگرمیوں کی بحالی علاقائی اور عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہے
