\ایران کا سویڈش سفارتکار کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم
ایران اور سویڈن کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ تہران نے سویڈن کے ایک سفارتکار کو 48 گھنٹوں کے اندر ایران چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ سویڈن کی جانب سے ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کو ملک سے نکالے جانے کے بعد جوابی اقدام کے طور پر کیا گیا۔ تہران نے سویڈن کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سویڈش حکام نے 16 ستمبر کو ایرانی سفارتخانے سے وابستہ ایک اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ سویڈن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ اہلکار کی سرگرمیاں سفارتی قواعد اور ویانا کنونشن کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
ایران نے سویڈن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ تہران میں سویڈن کے سفیر کو ایرانی وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے بعد ازاں ایک سویڈش سفارتکار کو 48 گھنٹوں کے اندر ایران سے روانہ ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس اقدام کو سویڈن کے فیصلے کے جواب میں کیا جانے والا سفارتی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سویڈش حکام کا کہنا ہے کہ ایران ماضی سے سویڈن میں ایسی سرگرمیوں سے منسلک رہا ہے جنہیں وہ ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ سویڈن کی جانب سے ان خدشات کا اظہار مختلف مواقع پر کیا جا چکا ہے۔
ایران نے تاہم سویڈن کے ان الزامات کی بھی تردید کی ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ سویڈن کی جانب سے ایرانی اہلکار کے خلاف کارروائی کے لیے پیش کیے گئے الزامات قابل قبول نہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سامنے آنے والی حالیہ سفارتی کارروائی سے باہمی تعلقات میں موجود تناؤ مزید نمایاں ہوگیا ہے۔ ایک ملک کی جانب سے سفارتی اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیے جانے کے بعد دوسرے ملک کی جانب سے بھی اسی نوعیت کا اقدام کیا گیا ہے۔
سفارتی حلقوں میں ایسے اقدامات کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ایران اور سویڈن کے سرکاری مؤقف میں الزامات کے حوالے سے واضح اختلاف موجود ہے۔
حالیہ پیش رفت کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات اور باہمی رابطوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
