آصف علی نائیک
28اگست 2026
پاکستان کی معیشت کئی دہائیوں سے بحران در بحران کا شکار ہے کبھی زرمبادلہ کے ذخائر کا مسئلہ کبھی قرضوں کی ادائیگی کبھی آئی ایم ایف کی شرائط اور کبھی گردشی قرضے کا جن حکومت کے سامنے کھڑا دکھائی دیتا ہے لیکن ہر بحران کا بوجھ آخرکار جس طبقے کے کندھوں پر منتقل ہوتا ہے وہ عام پاکستانی شہری ہے
حکومت کو جب بھی قرض کی قسط ادا کرنی ہو خزانے میں کمی پوری کرنی ہو یا توانائی کے شعبے کے خسارے کو کم کرنا ہو ایک نیا فارمولا سامنے آ جاتا ہے کبھی بجلی کے یونٹ مہنگے کبھی فیول ایڈجسٹمنٹ کبھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کبھی سرچارج اور اب فکسڈ چارجز یوں محسوس ہوتا ہے کہ بجلی کا بل اب صرف استعمال شدہ بجلی کی قیمت نہیں بلکہ ملکی معاشی بحران کی پوری داستان بن چکا ہے
2026 میں بجلی کے فکسڈ چارجز کو صارف کے منظور شدہ لوڈ سے جوڑنے کا نظام بھی سامنے آیا جس کے نتیجے میں کم بجلی استعمال کرنے والے بعض صارفین کے لیے بھی بل میں ایک مستقل رقم شامل ہو سکتی ہے نیپرا کے نئے ٹیرف ڈھانچے کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا کہ فکسڈ چارجز اب صرف کھپت کے بجائے لوڈ سے بھی منسلک ہیں
یہاں ایک عام صارف کا سوال بالکل جائز ہے اگر میں نے بجلی استعمال ہی نہیں کی تو میرے ذمے اتنے مختلف چارجز کیوں؟ یقیناً بجلی کے نظام کو چلانے کے اخراجات ہوتے ہیں بجلی گھروں کو ادائیگیاں کرنی ہوتی ہیں ترسیل اور تقسیم کے اخراجات ہوتے ہیں اور گردشی قرضہ بھی ایک حقیقت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام کی اصلاح کا بوجھ ہر مرتبہ صارف ہی کیوں اٹھائے؟
سوئی گیس کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں گیس کے نرخوں میں باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ درآمدی آر ایل این جی کی لاگت اور شعبے کے گردشی قرضے کی وجہ سے صارفین پر مالی بوجھ بڑھتا رہا ہے آئی ایم ایف کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق گیس کے شعبے میں دسمبر 2025 تک گردشی قرضہ 3.4 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا جبکہ حکومت گیس کے نرخوں کو لاگت کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے
یہ بھی ایک عجیب صورتحال ہے کہ جس ملک میں عام آدمی اپنی آمدن بڑھانے کے لیے سالوںں محنت کرتا ہے وہاں بجلی گیس پٹرول اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں اس کی آمدن سے کہیں تیز رفتاری سے بڑھتی ہیں پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں اندرونی و بیرونی قرضوں پر انحصار کیا قرض لینا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں دنیا کے بہت سے ممالک قرض لیتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ قرض کہاں خرچ ہوا اور اس سے معیشت میں کتنی پیداواری صلاحیت پیدا ہوئی؟
اگر قرض لے کر ایسے منصوبے بنیں جو روزگار پیدا کریں برآمدات بڑھائیں صنعت کو مضبوط کریں اور ملکی آمدن میں اضافہ کریں تو قرض مستقبل کی سرمایہ کاری بن سکتا ہے لیکن اگر قرض کا بڑا حصہ پرانے قرض کی ادائیگی خسارے پورے کرنے اور غیر پیداواری اخراجات میں چلا جائے تو آنے والی نسلوں کے لیے صرف بل باقی رہ جاتے ہیں اور پھر ان بلوں کی وصولی کے لیے نئے نئے فارمولے بنائے جاتے ہیں
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے تحت توانائی کے شعبے میں اصلاحات لاگت کے مطابق نرخوں اور گردشی قرضے میں کمی جیسے اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں آئی ایم ایف نے بھی اپنی 2026 کی رپورٹ میں بجلی اور گیس کے شعبوں کو مالی طور پر پائیدار بنانے کے لیے لاگت کے مطابق ٹیرف اصلاحات اور کمزور صارفین کے تحفظ پر زور دیا ہے
لیکن یہاں حکومت کی اصل ذمہ داری شروع ہوتی ہے اگر قیمتیں بڑھانا ہی واحد اصلاح ہے تو پھر اصلاحات کہاں ہیں؟
بجلی چوری روکنے کے لیے کیا مؤثر اقدامات ہوئے؟
لائن لاسز کم کرنے کے لیے کیا کیا گیا؟
نااہلی اور بدانتظامی کا خاتمہ کہاں تک پہنچا؟
سرکاری اداروں کے اخراجات کتنے کم ہوئے؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کا مستقل نظام کہاں ہے؟
صرف بل بڑھانے سے معیشت مضبوط نہیں ہوتی معیشت مضبوط کرنے کے لیے آمدن بڑھانا پڑتی ہے
آج عام شہری کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے اگلے مہینے کا بجٹ بنانا مشکل ہو گیا ہے پٹرول کی قیمت بدلے تو ٹرانسپورٹ متاثر ہوتی ہے ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو سبزی، دودھ، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جاتی ہیں بجلی مہنگی ہو تو دکاندار کارخانہ دار اور تاجر اپنی لاگت صارف سے وصول کرتا ہے گیس مہنگی ہو تو گھریلو بجٹ مزید سکڑ جاتا ہے
یوں ایک قیمت میں اضافہ پوری معیشت میں لہریں پیدا کرتا ہے عام آدمی کی آمدن مگر اسی رفتار سے نہیں بڑھتی
سرکاری ملازم ہو یا نجی شعبے کا ملازم مزدور ہو یا چھوٹا دکاندار کسان ہو یا پنشنر ہر شخص کا بنیادی سوال ایک ہی ہےآخر ماہ کے آخر میں گھر کیسے چلے گا؟
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں وزراء تبدیل ہوتے رہتے ہیں پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن ایک چیز مستقل نظر آتی ہے
عوام پر مالی بوجھ کبھی کہا جاتا ہے کہ بجلی سستی کرنے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں کبھی بتایا جاتا ہے کہ گیس کے نرخ نہ بڑھائے گئے تو گردشی قرضہ بڑھ جائے گا کبھی پٹرول کی قیمت عالمی منڈی سے منسلک ہونے کی دلیل دی جاتی ہے
یہ تمام دلائل اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں لیکن ریاست کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کمزور شہری کو معاشی جھٹکوں سے کیسے محفوظ رکھتی ہے دنیا کے کامیاب ممالک صرف قیمتیں بڑھانے کے فارمولے نہیں بناتے وہ اپنی معیشت میں ایسی قوت پیدا کرتے ہیں جس سے عوام کی آمدن بھی بڑھے عوام کو ریلیف نہیں مستقل معاشی تحفظ چاہیے
پاکستان کو اب وقتی ریلیف پیکجوں سے آگے بڑھنا ہوگا بجلی اور گیس کے شعبوں میں حقیقی اصلاحات کرنا ہوں گی بجلی چوری اور لائن لاسز پر بلاامتیاز کارروائی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری پیداواری لاگت میں کمی سستی توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری اور شفاف نظام ضروری ہے اسی طرح گیس کے شعبے میں بھی خسارے کی اصل وجوہات تلاش کرنا ہوں گی اگر ہر مالی نقصان صارف کے بل میں منتقل کر دیا جائے گا تو عوام کب تک اسے برداشت کریں گے؟
حکومت کو یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ غریب اور متوسط طبقے کو صرف سبسڈی دینے کے بجائے اسے معاشی طور پر مضبوط کیسے بنایا جائےکیونکہ سبسڈی مستقل حل نہیں مضبوط معیشت مستقل حل ہے
آخر کب تک؟
آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیوں کے سفر میں پاکستان نے بہت کچھ حاصل بھی کیا لیکن معاشی خودمختاری کا خواب ابھی مکمل نہیں ہوا آج بھی قرض کی قسط آتی ہے تو نئی پالیسی بنتی ہے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو پٹرول مہنگا ہوتا ہے بجلی کے شعبے میں خسارہ بڑھتا ہے تو صارف کا بل بڑھتا ہے اور گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھتا ہے تو گیس کے نرخوں میں اضافہ سامنے آ جاتا ہےخطرہ یہ ہے کہ کہیں ہم ایسی معیشت نہ بن جائیں جہاں شہری کو اپنی آمدن کا حساب بعد میں اور حکومت کے نئے فارمولے کا حساب پہلے کرنا پڑے
کل شاید بجلی کا نیا فارمولا ہو پرسوں گیس کا پھر پٹرول کا پھر کسی اور بنیادی ضرورت کا
لیکن سوال وہی رہے گا
فارمولے عوام کے لیے کب بنیں گے؟
ایسے فارمولے جن سے عام آدمی کی آمدن بڑھے روزگار پیدا ہو صنعت چلے زراعت مضبوط ہو برآمدات بڑھیں اور پاکستان قرض لینے کے بجائے قرض دینے والی معیشت بننے کی طرف بڑھے
عوام کو ہر ماہ نیا بل نہیں ایک ایسا مستقبل چاہیے جس میں انہیں ہر ماہ کسی نئے بل اور نئے فارمولے کا خوف نہ ہو
کیونکہ ریاست کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ عوام سے زیادہ سے زیادہ وصولی کر لے اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے شہری کو اتنا مضبوط بنا دے کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد بھی مستقبل کے لیے کچھ بچا سکے
