ماہِ ربیع الاول سایہ فگن ہو چکا ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس نے تاریخِ انسانی کا رخ موڑ دیا تھا۔ ماہ ربیع الاول میں جب اللہ رب العزت نے اپنے حبیبِ، رحمت للعالمین، خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دھرتی پر مبعوث فرمایا، آپ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کی فکری، اخلاقی اور روحانی تبدیلی کا نقطہ آغاز تھا۔​آج جب ہم اس مقدس مہینے کے تناظر میں سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا ہر نقش، ہر قدم اور ہر فیصلہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسا روشن مینارِ نور ہے جس کی روشنی میں اندھیری راتوں اور بحرانوں کے سمندر کو پار کیا جا سکتا ہے۔ مکی زندگی کی صعوبتیں ہوں یا مدنی زندگی کا فلاحی اور ریاست ساز دور، ہر گوشہ حکمت و بصیرت سے معمور ہے۔
​نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا تیرہ سالہ مکی دور عزمِ صمیم، استقامت، اور صبرِ جمیل کی ایسی لازوال داستان ہے جس کی نظیر پوری تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا کی چوٹی پر کھڑے ہو کر قریشِ مکہ کو توحید کا پیغام سنایا، تو حق کی اس پہلی آواز کے جواب میں باطل نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا۔ معاشرے کے وہ لوگ جو کل تک آپ کو “صادق” اور “امین” کے القابات سے پکارتے تھے، دشمن بن گئے۔​قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام اور بالخصوص آخری نبی کی اس آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے تسلی دی,آپ سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے، تو انہوں نے اس تکذیب اور ایذارسانی پر صبر کیا یہاں تک کہ ہماری مدد ان کے پاس آ گئی“ (سورۃ الانعام: 34)۔
​مکی زندگی کے یہ سال اس بات کا عملی نمونہ ہیں کہ جب انسان کسی بلند نظریے اور الہٰی مشن کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اسے کتنی ہی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ شعبِ ابی طالب کی گھاٹیوں میں تین سال تک گھاس اور پتتے کھانے کی نوبت آئی، طائف کے بازاروں میں بچوں اور اوباش لوگوں کے پتھر کھا کر آپ کے پاؤں مبارک لہولہان ہو گئے، مکہ میں سجدے کی حالت میں آپ کی پشت مبارک پر اونجھ کی اوجھڑی ڈالی گئی، اور طرح طرح کے طعنے اور ذہنی اذیتیں دی گئیں۔ مگر زبانِ مبارک سے بددعا کا ایک حرف بھی ادا نہیں ہوا، بلکہ ہر موقع پر یہی دعا نکلی: ”اے اللہ! میری قوم کو معاف کر دے، یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں ​حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک موقع پر پوچھا گیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سب سے سخت ترین دن کون سا دیکھا ہے تو آپ نے فرمایا کہ احد کا دن یا طائف کا دن بہت سخت تھا، جہاں لوگوں نے آپ کے ساتھ انتہائی روایتی بے اعتنائی برتی۔ ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”مجھے اللہ کی راہ میں جتنا ڈرایا گیا ہے، اتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا، اور جتنا مجھے اللہ کی راہ میں ستایا گیا ہے، اتنا کسی اور کو نہیں ستایا گیا“ (جامع الترمذی)۔
​مکی زندگی کا یہ باب آج کی امتِ مسلمہ کے لیے یہ درس دیتا ہے کہ اگر مقصدِ حیات حق ہو اور عزم پختہ ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو آپ کے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔ مکی دور ہمیں سکھاتا ہے کہ وقتی ناکامیاں، تنہائی اور حالات کی سختی دراصل کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔
​مکہ کی تیرہ سالہ صعوبتوں کے بعد ہجرت کا مرحلہ آیا، جس نے مدینہ منوره کی سرزمین کومنورکر دیا۔ مدنی زندگی کا یہ دور اسلام کے عملی نفاذ، سیاست، معیشت، معاشرت اور ریاست کا روشن باب ہے۔ مدینہ پہنچتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے پہلا تاریخی قدم اٹھایا، وہ مہاجرین اور انصار کے درمیان “اخوت” کا رشتہ قائم کرنا تھا، جس نے قبائلی عصبیت اور نسلی تفاخر کی جڑیں کاٹ دیں۔
​اس کے بعد دنیا کے پہلے تحریری دستور یعنی “میثاقِ مدینه” کی تشکیل عمل میں آئی۔ یہ دنیا کا پہلا ایسا معاہدہ تھا جس نے مدینہ میں بسنے والے تمام مذاہب, قبائل گروہوں کو مذہبی آزادی، جان و مال کا تحفظ اور مساوی حقوق کی ضمانت دی۔
​مدنی زندگی نے ثابت کیا کہ اسلام صرف مساجد کے کونوں تک محدود کوئی فلسفہ نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتا ہے۔
​آپ نے سُود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت احکامات جاری کیے، اور زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے ایک ایسا فلاحی معاشرہ تشکیل دیا جہاں کوئی شخص بھوکا سونا گووارا نہیں کرتا تھا۔ مدینہ کی ریاست میں یتیوں، بیواؤں، غلاموں اور کمزور طبقات کو وہ حقوق دیے گئے جو اس سے پہلے تصور بھی نہیں کیے جا سکتے تھے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں آپ نے نسل پرستی کا جنازہ نکالتے ہوئے اعلان کر دیا کہ کسی عرب کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔​قرآن مجید نے اسی مدنی اور مکی اسوہ حسنہ کے بارے میں واضح کیا:
”یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے“ (سورۃ الاحزاب: 21)
​آج عالمِ اسلام جس فکری انتشار، اخلاقی زوال، سیاسی خلفشار اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہم نے اپنے نبی کی سیرت کو کتابوں کے طاقوں میں سجا کر رکھ دیا ہے اور عملی میدان میں اغيار کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔
​آج ہم ربیع الاول کو چراغاں کرنے، جلوس نکالنے، جھنڈے لہرانے اور چند لفظی تقریریں کرنے تک محدود کر چکے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ محبت کا اظہار ان طریقوں سے بھی ہو، لیکن اصل محبت یہ ہے کہ آپ کی سنت کو اپنے کردار کا حصہ بنایا جائے۔​جب تک امتِ مسلمہ مکی دور کے صبر، استقامت، اور مدنی دور کے عدل، اتحاد، نظم و ضبط اور علمی برتری کو دوبارہ اپنے سینے سے نہیں لگائے گی، اس وقت تک دنیا میں اس کا وقار بحال نہیں ہو سکتا۔ آج ہمیں اپنے تعلیمی نظام، معاشی ڈھانچے، اوراجتماعی رویوں میں سیرتِ طیبہ کی روح کو سمونے کی اشد ضرورت ہے۔​ماہِ ربیع الاول ہمیں صرف جشن منانے کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ احتساب کا بھی مہینہ ہے۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیاں اس سانچے میں ڈھلی ہیں جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا کیا تھا
​آئیے اس بابرکت مہینے میں یہ عہد کریں کہ ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں صداقت، امانت، اخوت اور عدل و انصاف کو فروغ دیں گے۔ مکی زندگی کے مصائب ہمیں یہ سکھائیں گے کہ مشکلات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکنے، اور مدنی زندگی کے اصول ہمیں بتائیں گے کہ ایک مہذب اور فلاحی معاشرہ کیسے تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہم نے سچے دل سے اسوہ حسنہ کو اپنا لیا، تو وہ دن دور نہیں جب امتِ مسلمہ ایک بار پھر دنیا کی امامت کے منصب پر فائز ہو جائے گی اور دنیا کے دونوں جہانوں میں کامیابی ہمارے قدم چومے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *