پاکستان اور کویت کے مابین طے پانے والا پروٹوکول ایگریمنٹ 2026ء دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور مشترکہ مفادات کا روشن ترین اور تاریخی عکاس ہے۔ عصرِ حاضر میں جب عالمی اور علاقائی سیاست کے افق پر سکیورٹی کے نئے اور پیچیدہ چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں، ا کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السلیم الصباح کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے وفد کا اسلام آباد کا دورہ اس امر کا بھرپور اور دوٹوک ثبوت فراہم کرتا ہے کہ دونوں ممالک ہر کٹھن گھڑی میں ایک دوسرے کے دست و بازو بننے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔ اس اہم ترین دورے کے دوران کویتی رہنماؤں کی پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور عسکری قیادت کے ساتھ ہونے والی تفصیلی ملاقاتیں اس بات کی غماز ہیں کہ پاک کویت تعلقات اب ایک سطحی سفارت کاری سے نکل کر ایک نئی، مربوط، پائیدار اور انتہائی مستحکم سمت کی طرف تیزی سے گامزن ہو چکے ہیں۔
سال 2023ء کے دفاعی تعاون کے اس فریم ورک کو وسعت دینے والا یہ نیا معاہدہ دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی تعلقات کے دائرہ کار کو بلندیوں کی ایک نئی معراج پر لے کر جائے گا، جس کے تحت پاک فوج کویتی مسلح افواج کو پیشہ ورانہ عسکری تربیت، صلاحیت، دفاعی استعداد کار میں اضافے اور جدید سرحدی انتظام کے تمام کلیدی شعبوں میں غیر مشروط و بھرپور معاونت فراہم کرے گی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، عسکری نظم و ضبط اور عالمی معیار کی آپریشنل صلاحیتوں کا اعتراف آج پوری دنیا کے عسکری ادارے کرتے ہیں، اور کویت کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اس عسکری مہارت سے استفادہ کرنا دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے عمیق باہمی اعتماد کا سب سے بڑا مظہرِ ہے۔ اس تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین تاریخی تعلقات کو ایک نئی جہت اور مضبوط بنیاد فراہم کی جا رہی ہے جو آنے والے برسوں میں دفاعی خودکفارت اور خطے کے استحکام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔
اس تناظر میں کویتی وزیر دفاع اور ان کے ہمراہ آنے والے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد درج سعد الشریان کا جنرل ہیڈ کوارٹرز جی ایچ کیو راولپنڈی کا خصوصی دورہ اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات اس تاریخی مشن کا ایک اور انتہائی تابناک باب ثابت ہوئی ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے تمام امور، خطے کی مجموعی اور نازک سلامتی نیز دوطرفہ دفاعی روابط کو مزید فروغ دینے کے تمام ممکنہ پہلوؤں پر گہرا تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کویتی وفد نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کی گراں قدر خدمات، قربانیوں اور غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہا۔ دونوں فریقین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اس طرح کے اعلیٰ سطحی تبادلے اور روابط نہ صرف دونوں برادر ممالک کی افواج کے درمیان بلکہ دونوں ریاستوں کے مابین قربتوں کو مزید بڑھانے کا سبب بنیں گے۔
آج کے اس پرآشوب، ہنگامہ خیز اور تغیر پذیر دور میں جب مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں دفاعی و سکیورٹی کے تقاضے تیزی سے بدل رہے ہیں، پاکستان اور کویت کا یہ اتحاد خطے میں امن کے تمام خواہاں ممالک کے لیے امید کی ایک کرن کی حیثیت رکھتا ہے، جو آگے چل کر دونوں برادر ممالک کے عوام کے لیے اقتصادی خوشحالی، دفاع، دوطرفہ تعاون کے نئے افق اور ایک پائیدار و محفوظ مستقبل کی ضمانت فراہم کرے گا۔ یہ معاہدہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اور کویت ہر مشکل وقت میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی یہ دیرینہ شراکت داری نہ صرف دو طرفہ مفادات کا تحفظ کرتی ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھی ایک مضبوط ڈھال کا کردار ادا کرتی رہے گی
