آصف علی نائیک
26 اگست 2026
پاکستان میں حادثات اور سانحات کوئی نئی بات نہیں لیکن بعض واقعات محض حادثہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمارے نظام کی کمزوری انتظامی غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا آئینہ دار بن جاتے ہیں پمز اسلام آباد کا حالیہ افسوسناک واقعہ بھی اسی نوعیت کا ایک سانحہ ہے جس نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے چودہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پورے نظامِ نگرانی اور حفاظتی انتظامات کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
عام طور پر جب وزراء ڈپٹی کمشنر یا محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام بڑے سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں تو مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات ادویات ڈاکٹروں کی موجودگی اور دیگر انتظامی امور کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے یہ سب یقیناً ضروری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کبھی اسی سنجیدگی سے ہسپتال کے الیکٹریکل، مکینیکل، فائر فائٹنگ، ایئر کنڈیشننگ اور دیگر حفاظتی نظام کا بھی جامع معائنہ کیا جاتا ہے؟
ایک بڑے ہسپتال میں ہر لمحہ انسانی جانیں زیرِ علاج ہوتی ہیں خصوصاً آئی سی یو، آپریشن تھیٹر، ایمرجنسی، برن یونٹ اور دیگر حساس وارڈز میں معمولی سی تکنیکی خرابی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے مقامات پر برسوں پہلے نصب کیے گئے آلات کو صرف اس لیے قابلِ استعمال نہیں سمجھا جا سکتا کہ وہ ابھی تک کسی نہ کسی طرح چل رہے ہیں۔ حفاظتی نظام کی باقاعدہ ٹیسٹنگ، مینٹیننس اور بروقت اپ گریڈیشن ہسپتال انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اگر کوئی اے سی طویل عرصے سے درست کام نہیں کر رہا تو یہ صرف ایک مشین کی خرابی نہیں۔ اگر وہ مشین ایسے وارڈ میں نصب ہے جہاں مریضوں کی زندگی کا انحصار مناسب درجہ حرارت اور ماحول پر ہے تو اس خرابی کو نظر انداز کرنا انتظامی غفلت کے زمرے میں آتا ہے سوال یہ بھی ہے کہ ایسے آلات کے متبادل کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا متعلقہ حکام کو خرابیوں کی رپورٹس بھیجی جاتی رہیں؟ اگر بھیجی گئیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا؟ اور اگر رپورٹس ہی نہیں بنیں تو اس نگرانی کے نظام کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
اس سانحے کے بعد صرف کسی ایک افسر، ملازم یا فرد کو ذمہ دار قرار دے کر معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے ذمہ داری کا تعین پورے نظام کی سطح پر ہونا چاہیے۔ انتظامیہ متعلقہ شعبوں مینٹیننس سسٹم نگرانی کرنے والے افسران اور ان تمام ذمہ دار اداروں کا جائزہ لینا ہوگا جن کے فرائض میں مریضوں کی جان و مال کا تحفظ شامل ہے۔
یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں صرف علاج کی سہولیات کا جائزہ لیا جاتا ہے یا Patient Safety کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے؟ کیا ہر ہسپتال میں فائر سیفٹی ڈرلز باقاعدگی سے ہوتی ہیں؟ کیا ایمرجنسی اخراج کے راستے ہر وقت کھلے اور قابلِ استعمال ہوتے ہیں؟ کیا فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر فائٹنگ سسٹم، بجلی کے بیک اپ اور دیگر حفاظتی آلات باقاعدگی سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں؟ کیا پرانے برقی نظام اور مشینری کی عمر مکمل ہونے کے بعد انہیں تبدیل کرنے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہے؟
یہ سوالات صرف پمز کے حوالے سے نہیں بلکہ ملک کے تمام بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے حوالے سے اٹھنے چاہئیں اسلام آباد جیسے وفاقی دارالحکومت میں واقع ایک بڑے ہسپتال میں اس نوعیت کا سانحہ معمولی واقعہ نہیں یہاں ملک بھر سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں اور عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں میں حفاظتی معیار بھی مثالی ہوگا اگر یہاں حفاظتی انتظامات میں کمزوری سامنے آتی ہے تو یہ پورے ملک کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
ہمیں حادثے کے بعد چند دن شور مچانے کے بجائے مستقل بنیادوں پر حفاظتی آڈٹ کا نظام بنانا ہوگا تمام بڑے ہسپتالوں میں الیکٹریکل، مکینیکل، فائر سیفٹی، گیس آکسیجن سپلائی لفٹس جنریٹرز ایمرجنسی راستوں اور دیگر حساس نظام کا آزادانہ اور باقاعدہ معائنہ ہونا چاہیے۔ جو آلات اپنی عمر پوری کر چکے ہیں انہیں تبدیل کیا جائے اور جن نظاموں کو اپ گریڈیشن کی ضرورت ہے، انہیں محض بجٹ یا فائلوں کی نذر نہ کیا جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں حادثات کے بعد ذمہ دار تلاش کرنے کے بجائے حادثات سے پہلے خطرات تلاش کرنے کی عادت ڈالنا ہوگی ایک ذمہ دار انتظامیہ وہ نہیں جو سانحے کے بعد انکوائری کمیٹی بنا دے بلکہ وہ ہے جو سانحہ ہونے سے پہلے خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرے۔
چودہ جانوں کا نقصان ایک ایسا زخم ہے جسے محض بیانات اور تعزیتی کلمات سے نہیں بھرا جا سکتا ان قیمتی جانوں کے ساتھ انصاف کا تقاضا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں ذمہ داری کا درست تعین کیا جائے غفلت ثابت ہونے پر کارروائی ہو اور سب سے بڑھ کر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
اگر آج بھی ہم نے اس سانحے سے سبق نہ سیکھا حفاظتی نظام کو ترجیح نہ دی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کو معمول سمجھ کر نظر انداز کردیا تو خدانخواستہ کل اس سے بھی بڑا سانحہ ہمارے سامنے ہو سکتا ہے اب وقت صرف افسوس کا نہیں احتساب اصلاح اور عملی اقدام کا ہے۔
