کراچی: مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت سے متعلق حوصلہ افزا اشاریے سامنے آئے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور حکومتی اقدامات نے معاشی استحکام کی سمت میں مثبت پیش رفت کا تاثر مضبوط کیا ہے۔

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا معاشی آؤٹ لک بھی مستحکم (Stable) قرار دیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ بہتری مالیاتی نظم و ضبط، زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگراموں کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران برآمدات میں اضافے کے لیے ایک جامع مراعاتی پیکیج متعارف کرایا ہے، جس کی مجموعی مالیت 255 ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ اس پیکیج کے تحت مختلف اسکیموں کے ذریعے برآمدی صنعت کو مالی سہولتیں اور حکومتی معاونت فراہم کی جائے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلے کے مطابق ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت برآمدکنندگان کو چھ ماہ کے لیے 8.5 فیصد مقررہ شرح سود پر ورکنگ کیپیٹل قرضے دستیاب ہوں گے۔ اس سہولت پر حکومت آئندہ مالی سال میں تقریباً 58 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی تاکہ کاروباری لاگت کم ہو اور برآمدی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

اسی طرح لانگ ٹرم ایکسپورٹ گروتھ فنانسنگ فیسلٹی کے ذریعے صنعتوں کی توسیع، نئی پیداواری یونٹس کے قیام اور جدید مشینری کی خریداری کے لیے 350 ارب روپے تک کے رعایتی قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ اس اسکیم میں ابتدائی دو برس قرض لینے والوں سے صرف دو فیصد شرح سود وصول کی جائے گی، جبکہ اس کے بعد آٹھ سال تک پانچ فیصد شرح لاگو ہوگی۔ باقی مالی بوجھ حکومت برداشت کرے گی تاکہ سرمایہ کاری کی رفتار تیز ہو سکے۔

حکومت نے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے والے اداروں کے لیے خصوصی مراعات بھی متعارف کرائی ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم از کم 10 فیصد اضافی برآمدات کرنے والے ایکسپورٹرز کو اضافی برآمدی مالیت کا ایک فیصد، جبکہ اس سے زیادہ اضافہ کرنے والوں کو دو فیصد تک مالی ترغیب دی جائے گی۔ اس مراعاتی پروگرام پر سالانہ تقریباً 15 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں بھی برآمدی شعبے کے لیے متعدد ٹیکس اور مالیاتی سہولتیں شامل کی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومت نے ترسیلاتِ زر پر دی جانے والی بعض مراعات کو محدود کر کے وسائل کو برآمدی صنعت کی طرف منتقل کیا ہے، جس سے پیداواری سرگرمیوں، روزگار، ٹیکس وصولیوں اور قیمتی زرمبادلہ کی آمد میں اضافہ متوقع ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں، تاہم ملک اب بھی آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک خصوصاً چین اور سعودی عرب کے مالی تعاون پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے دیرپا معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں مسلسل اضافہ، صنعتی مسابقت میں بہتری اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا فروغ ناگزیر ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ حکومت نے برآمدکنندگان کو سستی مالی سہولتیں، رعایتی قرضے اور مختلف مراعات فراہم کر دی ہیں۔ اب نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار بڑھائے اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت میں اضافہ کرے، تاکہ مستقبل میں ملکی معیشت بیرونی قرضوں اور امداد پر کم سے کم انحصار کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *