گھوٹکی کے علاقے عادلپور کے قریب واقع گاؤں عصمت خان کولاچی میں مبینہ کاروکاری تنازع کے باعث ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی۔ متاثرہ خاندان کے مطابق پیش آنے والے واقعے میں ایک شخص شدید زخمی جبکہ ایک کمسن بچی بھی زخمی ہوئی ہے۔
متاثرہ فریق کا مؤقف ہے کہ کاروکاری کے مبینہ تنازع میں شامل خاتون مائی سیما کولاچی حفاظتی خدشات کے باعث اپنے ماموں کے گھر مقیم تھیں۔ ان کا الزام ہے کہ چند مسلح افراد وہاں پہنچے اور حملہ کیا، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
خاندان کے مطابق بعد ازاں مائی سیما کولاچی کو ان کے والد کے گھر منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں مبینہ طور پر لقمان کولاچی پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا گیا، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ واقعے کے دوران کمسن فضا کولاچی بھی زخمی ہوئی، جسے فوری طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ اسی تنازع سے متعلق مقدمے میں بعض افراد ماضی میں گرفتار ہو کر جیل بھی جا چکے تھے، تاہم ان کے بقول رہائی کے بعد دوبارہ حملہ کیا گیا۔
واقعے کے بعد مائی سیما کولاچی نے عادلپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ واقعے کے باوجود پولیس نے ان کی درخواست پر قانونی کارروائی میں پیش رفت نہیں کی۔
دوسری جانب اس واقعے پر پولیس کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی، جبکہ پولیس کے ردِعمل اور ممکنہ قانونی کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
