ایندھن کی قلت کے باعث کیوبا میں شمسی توانائی سے چلنے والی ٹرائی سائیکلوں کا استعمال بڑھ گیا
کیوبا میں جاری ایندھن کے بحران نے شہریوں کو متبادل سفری ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں اب روایتی پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں برقی تین پہیوں والی ٹرائی سائیکلیں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جو روزمرہ آمدورفت اور سامان کی ترسیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
بہت سے شہریوں نے ان الیکٹرک ٹرائی سائیکلوں پر شمسی توانائی کے پینل بھی نصب کر لیے ہیں، جس سے انہیں بیٹری چارج کرنے کے لیے قومی بجلی کے نظام پر کم انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس طریقہ کار نے نہ صرف توانائی کی بچت میں مدد دی ہے بلکہ بجلی کی قلت کے دوران بھی ان گاڑیوں کا استعمال ممکن بنایا ہے۔
مقامی مارکیٹ میں ان گاڑیوں کی قیمت تقریباً 2 ہزار سے 4 ہزار امریکی ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ لاگت ہر شہری کے لیے قابلِ برداشت نہیں، تاہم متعدد افراد نے اپنی پرانی ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں فروخت کر کے یہ الیکٹرک ٹرائی سائیکلیں خریدیں۔ بعض خاندانوں کو بیرونِ ملک مقیم عزیزوں نے مالی مدد فراہم کی، جبکہ کئی چھوٹے کاروباری افراد نے انہیں اپنے کاروبار کے لیے سرمایہ کاری کے طور پر اختیار کیا۔
یہ ٹرائی سائیکلیں صرف ذاتی سفر تک محدود نہیں رہیں بلکہ سامان کی ترسیل، مقامی کاروباری سرگرمیوں اور ایسے روٹس پر بھی استعمال کی جا رہی ہیں جہاں عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولت محدود یا ناکافی ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ گاڑیاں شہری نقل و حمل کے نظام کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کیوبا کو کئی برسوں سے ایندھن کی فراہمی اور درآمدات سے متعلق مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے متبادل توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی اہمیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ شمسی توانائی سے چلنے والی ٹرانسپورٹ ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے، تاہم اس کے وسیع پیمانے پر فروغ کے لیے مناسب سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کی مالی استطاعت بھی اہم عوامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں الیکٹرک اور سولر ٹرانسپورٹ کی جانب بڑھتا رجحان نہ صرف توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ماحول دوست سفری نظام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
