نیدرلینڈز میں منفرد انداز سے معروف فنکار کو خراجِ عقیدت، میوزیم کا فرش پی نٹ بٹر سے ڈھانپ دیا گیا
نیدرلینڈز میں معروف تصوراتی فنکار وِم ٹی شپرز کی یاد میں ایک منفرد آرٹ انسٹالیشن دوبارہ عوام کے لیے پیش کی گئی، جس میں میوزیم کے فرش پر تقریباً 362 کلو گرام پی نٹ بٹر پھیلا کر ان کے مشہور کو نئے انداز میں حیات کیا گیا۔ استعمال ہونے والی پی نٹ بٹر کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس سے تقریباً 15 ہزار سینڈوچ تیار کیے جا سکتے ہیں۔
یہ منفرد نمائش روٹرڈیم میں واقع ڈیپوٹ، میوزیم بوئجمانس فان بیوننگن میں منعقد کی گئی ہے، جہاں یہ فن پارہ محدود مدت کے لیے نمائش کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد گزشتہ ماہ 83 برس کی عمر میں انتقال کر جانے والے فنکار کی تخلیقی سوچ اور فنی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
وِم ٹی شپرز نے اس آرٹ ورک کا ابتدائی تصور 1969 میں پیش کیا تھا۔ اس تخلیق نے اس وقت روایتی فن کے تصورات کو ایک نیا رخ دیا اور آرٹ کی دنیا میں منفرد شناخت حاصل کی۔ ان کا ماننا تھا کہ روزمرہ استعمال کی عام اشیا بھی فنکارانہ اظہار کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔
وِم ٹی شپرز نہ صرف اپنے غیر روایتی فن پاروں کے باعث شہرت رکھتے تھے بلکہ ڈچ ٹیلی ویژن کے بچوں کے مقبول پروگرام میں مختلف کرداروں کو آواز دینے کے حوالے سے بھی جانے جاتے تھے۔ ان کی تخلیقات اکثر ناظرین کو فن کے روایتی تصورات پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتی تھیں۔
، اور یہی تصور ان کے فن کا بنیادی حصہ تھا۔
یہ آرٹ ورک ان کی مشہور “فلور کورنگ” سیریز کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں انہوں نے مختلف غیر روایتی مواد استعمال کرتے ہوئے ایسے فن پارے تخلیق کیے جو فن اور روزمرہ زندگی کے درمیان موجود روایتی حدود کو چیلنج کرتے رہے۔
