اخترصدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔

نسخہ ہاتھ میں تھامے مریض جب ڈاکٹر کے کمرے سے نکلتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ہی سوال ہوتا ہے، دوا کہاں سے لوں؟ اور پھر اکثر وہی ڈاکٹر مسکرا کر کہتا ہے، فکر نہ کریں، دوا یہیں سے مل جائے گی۔ یہیں سے ایک ایسے دھندے کی بنیاد پڑتی ہے جس پر اب وفاقی آئینی عدالت نے کاری ضرب لگائی ہے۔

عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ سفید کوٹ پہن لینے سے کوئی شخص ڈرگ ایکٹ سے بالاتر نہیں ہو جاتا۔ مریض کو دوا تجویز کرنا اور الماریاں بھر کر دوائیں بیچنا دو الگ الگ کام ہیں۔ پہلا علاج ہے، دوسرا تجارت۔ اور جہاں تجارت ہوگی وہاں لائسنس بھی ہوگا، حساب بھی ہوگا، قانون بھی ہوگا۔

یہ فیصلہ دراصل اس پرانی چالاکی کا پردہ چاک کرتا ہے جس کے تحت کلینک کے ایک کونے میں چھوٹا سا میڈیکل سٹور سجا لیا جاتا تھا۔ نہ لائسنس، نہ کوالیفائیڈ فارماسسٹ، نہ سٹاک کا ریکارڈ۔ مریض مجبور کہ ڈاکٹر نے کہا ہے تو یہیں سے لینی ہے، ورنہ نہ جانے باہر سے اصلی ملے یا نقلی۔ اس مجبوری کو اعتماد کا نام دے کر برسوں سے کیش کرایا جاتا رہا۔

عدالت نے بڑی خوبصورتی سے فرق واضح کیا ہے۔ فارمیسی ایکٹ آپ کو اپنے مریض کو دوا دینے سے نہیں روکتا، لیکن اگر آپ نے گودام بنا رکھا ہے، خرید و فروخت کی رسیدیں ہیں، باقاعدہ گاہک ہیں تو پھر آپ معالج نہیں، تاجر ہیں۔ اور تاجر کے لیے ڈرگ انسپکٹر کا چھاپہ بالکل جائز ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے شوکاز نوٹس کو سزا نہیں مانا۔ ہمارے ہاں رواج بن گیا ہے کہ جیسے ہی کوئی ادارہ پوچھ گچھ کرے، فوراً ہائی کورٹ سے سٹے لے لیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ پہلے جواب دو، ریکارڈ دکھاؤ، نسخے لاؤ، رسیدیں پیش کرو۔ اگر بے قصور ہو تو قانون تمہیں چھوئے گا بھی نہیں، لیکن قانون سے بھاگنے کی اجازت نہیں ملے گی۔

آرٹیکل 18 ہر شہری کو کاروبار کا حق دیتا ہے، مگر عدالت نے یاد دلایا ہے کہ عوامی صحت کے معاملے میں یہ حق لامحدود نہیں۔ دوا کوئی کریانے کا سامان نہیں کہ جس کا دل چاہے بیچنے لگے۔ ایک غلط، ایکسپائر یا غیر معیاری گولی کسی کی جان لے سکتی ہے۔ اس لیے لائسنس محض کاغذ نہیں، یہ عوام کی زندگی کی ضمانت ہے۔

یہ فیصلہ ڈاکٹروں کے خلاف نہیں، عطائیت اور منافع خوری کے خلاف ہے۔ وہ ڈاکٹر جو واقعی خدمت کر رہا ہے، اسے اس فیصلے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ڈرنا اسے چاہیے جس نے علاج گاہ کو دکان بنا رکھا ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *