حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے موجودہ نظام میں بڑی اصلاحات کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے پٹرولیم شعبے کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مارکیٹ میں حقیقی مسابقت کو فروغ دینا، قیمتوں کے تعین کو زیادہ شفاف بنانا اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے پہلے ہفتہ وار بنیاد پر قیمتوں کا جائزہ لینے کا طریقہ اختیار کیا، جبکہ اب آئندہ مرحلے میں قیمتوں کے تعین کے نظام کو بتدریج آزاد مارکیٹ کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہائی آکٹین بلیندڈ کمپوننٹ (HOBC) پہلے ہی آزاد قیمتوں کے نظام کے تحت فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیاں صارفین کو اپنی قیمتوں اور سہولیات کی بنیاد پر متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اسی ماڈل کو دیگر پٹرولیم مصنوعات تک وسعت دینے سے مسابقت میں اضافہ اور خدمات کے معیار میں بہتری متوقع ہے۔

حکام نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی کام سیکٹر میں لبرلائزیشن کے بعد مارکیٹ میں مقابلہ بڑھا، نرخوں میں کمی آئی، خدمات کا معیار بہتر ہوا اور نئی سرمایہ کاری کو فروغ ملا۔ ان کے مطابق پٹرولیم شعبے میں بھی ایسی اصلاحات سے صارفین کو زیادہ انتخاب، بہتر قیمتیں اور معیاری خدمات حاصل ہو سکتی ہیں۔

اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کا پانچواں اجلاس وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں موجودہ کنٹرولڈ قیمتوں کے نظام سے مرحلہ وار ڈی ریگولیٹڈ ماڈل کی طرف منتقلی کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ذیلی کمیٹیوں نے اپنی سفارشات پیش کیں، جبکہ بین الاقوامی مشاورتی ادارے KPMG نے خطے کے مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹیکس ڈھانچے اور ریگولیٹری ماڈلز کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا۔ شرکا نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ طریقہ کار، شفافیت بڑھانے اور غیر ضروری قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو محدود رکھنے کے اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا کی ویب سائٹ پر ایک نیا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جہاں عوام روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار اور متعلقہ بین الاقوامی مارکیٹ ڈیٹا دیکھ سکیں گے، جس سے نظام میں شفافیت اور عوامی اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے تاکہ ہر مرحلے کی نگرانی، شفافیت، ٹریس ایبلٹی اور جوابدہی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایندھن کی فراہمی کے نظام کو زیادہ محفوظ اور منظم بنایا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی، سرمایہ کاری کے مواقع، مارکیٹ میں مسابقت، IFEM Pool کے موجودہ نظام اور ممکنہ اصلاحات پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ ونڈ فال ٹیکس سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا، جبکہ وزارت خزانہ، ایف بی آر اور پٹرولیم ڈویژن کو آئندہ اجلاس کے لیے مشترکہ سفارشات تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ کی گئیں اور مسابقتی ماحول برقرار رکھا گیا تو طویل مدت میں صارفین کو بہتر خدمات، زیادہ انتخاب، سرمایہ کاری میں اضافہ اور قیمتوں کے تعین کے زیادہ شفاف نظام سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے لیے مؤثر ریگولیٹری نگرانی بھی ناگزیر ہوگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *