آصف علی نائیک
30 اگست 2026

پاکستان واقعی عجیب و غریب واقعات کی ایک ایسی دنیا بنتا جا رہا ہے جہاں ایک واقعے کی گرمی ابھی کم بھی نہیں ہوتی کہ کوئی دوسرا واقعہ قوم کو حیرت اور پریشانی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے المناک واقعے نے پورے ملک کو غم اور غصے میں مبتلا کر رکھا تھا جہاں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے نے ملکی نظام صحت اور ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے اور ابتدائی تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔

ابھی اس سانحے کی گرمی اور عوامی غصہ اپنی انتہا پر تھا کہ کراچی سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے لوگوں کو حیران کر دیا کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر حمل کے بعد آپریشن کے لیے داخل کیا گیا لیکن آپریشن کے دوران ایسا انکشاف سامنے آیا کہ ہر سننے والا حیران رہ گیا۔

تحقیقات اور پولیس کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر بے اولادی کے طعنوں اور سماجی دباؤ سے بچنے کے لیے حمل کا ڈرامہ رچایا اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ وہ ہسپتال میں داخل ہوئیں اور آپریشن تھیٹر تک پہنچ گئیں جبکہ تحقیقات میں ہسپتال کی جانب سے ضروری طبی جانچ نہ کیے جانے کے معاملے پر بھی سنگین سوالات سامنے آئے ہیں اور حکام اس واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

یہاں سوال صرف ایک خاتون کے جھوٹ کا نہیں بلکہ سوال اس پورے نظام کا ہے سوال یہ ہے کہ نو ماہ تک ایک ایسا معاملہ کس طرح جاری رہا جسے ایک عام ذی شعور انسان بھی آسانی سے ناقابل یقین قرار دے سکتا ہے سوال یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران گھر کے افراد کہاں تھے سوال یہ ہے کہ خاندان کے کسی فرد نے کبھی اس معاملے کی حقیقت جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی سوال یہ ہے کہ اگر خاتون ہسپتال جاتی رہی تو طبی معائنوں اور دیگر رپورٹس کی حقیقت کیا تھی اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایک نجی ہسپتال میں کسی مریضہ کو ضروری طبی تصدیق کے بغیر کس طرح داخل کیا گیا اور معاملہ آپریشن تھیٹر تک کیسے پہنچ گیا۔

اگر تحقیقات میں کسی فرد کی غفلت یا مجرمانہ کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ ہسپتال کوئی تماشہ گاہ نہیں بلکہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ اپنی زندگی اور اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کراچی کے اس واقعے کو محض ایک عجیب خبر سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس واقعے کے ہر پہلو کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں۔

خاتون کے حالات اور اس پر موجود سماجی دباؤ کو بھی سمجھنا ضروری ہے کیونکہ پولیس کے مطابق معاملے میں بے اولادی کے طعنوں اور خاندانی دباؤ کا عنصر بھی موجود تھا لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اس سارے معاملے میں کون کون سے کردار شامل تھے اور کس کس سطح پر غفلت ہوئی آج ہم جدید ٹیکنالوجی اور جدید طب کے دور میں رہ رہے ہیں یہ وہ دور ہے جہاں چند لمحوں میں جدید طبی آلات کے ذریعے انسانی جسم کی اندرونی کیفیت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

ایسے دور میں اگر کوئی معاملہ بغیر بنیادی طبی تصدیق کے آپریشن تھیٹر تک پہنچ جائے تو یہ صرف ایک شخص یا ایک خاندان کی کہانی نہیں رہتی بلکہ یہ پورے طبی نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے پاکستان میں پہلے ہی سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں بے شمار خدشات موجود ہیں کہیں علاج میں غفلت کی شکایات ہیں کہیں جعلی ادویات کے مسائل ہیں کہیں غیر تربیت یافتہ عملے کی شکایات ہیں کہیں مریضوں سے بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں
اور کہیں ایسے سانحات رونما ہو جاتے ہیں جن کے بعد پورا ملک صرف افسوس اور مذمت تک محدود ہو جاتا ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بڑے واقعے کے بعد صرف کمیٹیاں بنانے اور چند افراد کو معطل کرنے کے بجائے نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کیا جائے
ہسپتالوں کے لیے سخت طبی اور حفاظتی اصول بنائے جائیں۔

ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائےاور غفلت کے مرتکب افراد کو محض چند روز کی معطلی یا رسمی کارروائی کے بعد دوبارہ اسی نظام کا حصہ نہ بنا دیا جائے کراچی کے اس واقعے میں بھی اگر تحقیقات سے ہسپتال انتظامیہ یا کسی طبی عملے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی ہسپتال بنیادی طبی جانچ کے بغیر کسی مریض کو اس حساس مرحلے تک نہ لے جائے اسی طرح ہمارے معاشرے کو بھی اپنا رویہ بدلنا ہوگا بے اولادی ہو یا کوئی اور ذاتی مسئلہ کسی انسان کو طعنوں اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنانا کسی صورت درست نہیں اکثر ہمارے معاشرے میں ایک عورت کو صرف اولاد کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہےاس کی عزت اس کی شخصیت اور اس کی زندگی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہےاور یہی سماجی رویے بعض اوقات انسانوں کو ایسے انتہائی اقدامات کی طرف دھکیل دیتے ہیں جن کا انجام مزید مسائل اور رسوائی کی صورت میں سامنے آتا ہے پاکستان میں عجیب و غریب واقعات کی خبریں شاید ہمیں وقتی طور پر حیران کرتی ہوں لیکن ان واقعات کے پیچھے چھپے ہوئے مسائل انتہائی سنجیدہ ہوتے ہیںکہیں نظام کی ناکامی ہوتی ہے کہیں غفلت ہوتی ہےکہیں سماجی دباؤ ہوتا ہےکہیں ذمہ داری سے فرار ہوتا ہےاور کہیں سچ کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہےضرورت اس بات کی ہے کہ ہر واقعے کو صرف سنسنی خیز خبر بنا کر چند دنوں بعد بھلا نہ دیا جائےبلکہ اس سے سبق سیکھا جائےپمز کا سانحہ ہو یا کراچی کے نجی ہسپتال کا حیران کن واقعہ دونوں مختلف نوعیت کے واقعات ضرور ہیں لیکن دونوں ہمارے نظام اور معاشرے کے سامنے اہم سوالات رکھتے ہیں ان سوالات کے جواب صرف تحقیقات سے نہیں بلکہ عملی اصلاحات سے ملیں گےورنہ ہم ایک واقعے پر شور مچاتے رہیں گے اور دوسرے واقعے کا انتظار کرتے رہیں گے پاکستان کو واقعی عجیب و غریب واقعات کی دنیا بننے سے بچانا ہے تو ہمیں تماشائی بننے کے بجائے ذمہ داری اور اصلاح کا راستہ اختیار کرنا ہوگا کیونکہ جب نظام میں غفلت معمول بن جائے اور معاشرے میں انسانی مسائل کو مذاق سمجھا جائے تو پھر ایسے واقعات صرف خبریں نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ بن جاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *