غزہ میں تازہ ترین بمباری کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 8 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔
ہفتے کی صبح غزہ شہر کے علاقے رِمال میں الاصالہ نامی رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں 5 فلسطینی شہید اور 6 زخمی ہو گئے۔ شہداء میں 4 خواتین بھی شامل ہیں۔ ہفتے کی رات تک کی اطلاعات کے مطابق مختلف حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 8 تک پہنچ گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1,400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دوہزارتئیس سےاب تک مجموعی طورپرچوہتر ہزار دو سو پچانوے افراد شہید ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ آئے روز ہونے والی بمباری سے درجنوں افراد شہید ہو رہے ہیں اور پورا غزہ ملیامیٹ ہو چکا ہے۔ گرے ہوئے اور تباہ شدہ مکانات اور خیموں میں رہنے والے مجبور و بے بس افراد پر بھی سکیورٹی کے نام پر مسلسل اور وقتاً فوقتاً بمباری اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل ایک ناسور بن چکا ہے۔
۔ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل اپنے مذموم عزائم سے باز نہیں آ رہا۔ عالمی قوتوں کے کہنے کے باوجود متاثرین تک خوراک نہیں پہنچ رہی، غذائی قلت کا سامنا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء بھی ناپید ہو چکی ہیں۔ پینے کا پانی میسر نہیں، علاج معالجے کی سہولیات دستیاب نہیں اور غریب عوام اپنے تباہ شدہ مکانات میں رہنے پر مجبور ہیں یا خیموں میں کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار بیٹھے ہوئے ہیں۔
عالمی اداروں کے مطالبات کے باوجود ان کا محاصرہ جاری ہے۔ نہ انہیں خوراکی اجناس وافر مقدار میں مہیا کی جا رہی ہیں، نہ پینے کا پانی اور نہ ہی ادویات۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی اس معاملے پر خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔ آخر وہ کون سی طاقت ہوگی جو اسرائیل کو اس ظالمانہ رویے سے روکے گی دوسری طرف
سردی کی آمد کے ساتھ غزہ کے مظلوم متاثرین کی مشکلات دگنی ہو جاتی ہیں۔ کھلے آسمان تلے خیموں میں اس ٹھٹھرتی سردی کا مقابلہ کرنا اور اسے برداشت کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موسم کے لحاظ سے انہیں سردی سے بچاؤ کی اشیاء مہیا کی جائیں تاکہ وہ کسی حد تک سردی سے محفوظ رہ سکیں۔ اس کے لیے بھی عالمی اداروں اور امت مسلمہ کو اجتماعی طور پر فکر کرنا ہوگا اور خصوصی کردار ادا کرنا ہوگا۔
امت مسلمہ کی خاموشی بھی اجتماعی حوالے سے انتہائی نا مناسب ہے۔ جس طرح اسرائیل غزہ کے نہتے اور مظلوم بھائیوں پر مظالم ڈھا رہا ہے، امت مسلمہ کو بھی اس حوالے سے خصوصی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کی جو بھی ضروریات ہیں، انہیں کسی نہ کسی طریقے سے ان تک پہنچایا جانا چاہیے۔ جو ہماری اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے۔ اسرائیل کی بربریت روکنے کے لیے بھی کوئی خاص اور ٹھوس مہم اور منصوبہ بندی اختیار کرنا ہوگی۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا جو سیاسی اتحاد مکہ معاہدے کے نام سے بنا ہے، اسے اس سلسلے میں بھی کوئی خاص کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ اسرائیلی جارحیت کو روکا جا سکے۔ اس معاہدے میں دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل کرکے اسے مزید طاقتور بنایا جائے تاکہ امت مسلمہ اور بالخصوص غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کی جائے اور ان کا دفاع کیا جائے۔
ورنہ کب تک غزہ کے مظلوم مسلمان بھائی یہ لاشیں برداشت کرتے رہیں گے عشروں سے جاری ان مظالم کا خاتمہ اب ہو جانا چاہیے۔ غزہ کے مظلوم مسلمان بھائی آج بھی اپنی زندگی، اپنے بچوں، اپنے گھروں، خوراک، پانی اور علاج معالجے کی بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔ ان کے تباہ شدہ مکانات اور خیموں میں سردی کا مقابلہ کرنا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ایسے میں عالمی اداروں اور امت مسلمہ کو ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اجتماعی طور پر فکر کرنا ہوگی۔
ان حالات میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کوخواپ غفلت سےبیدارہوکرانسانیت کی خاطراپناکرداراداکرناہوگاورنہ وہ بھی شریک جرم تصورکئےجائینگےان کی مجرمانہ خاموشی سمجھ سےبالاترہے اس کےساتھ ساتھ امت مسلمہ کو بھی اپنی اجتماعی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کے لیے آگے آنا ہوگا
غزہ ایک بار پھر ہمیں پکار رہا ہے۔ یہ ان مظلوم خاندانوں کی پکار ہے جو اپنے تباہ شدہ گھروں سے محروم ہو چکے ہیں، جو خیموں میں بیٹھے ہوئے ہیں، جو کھانے پینے کی اشیاء، پانی اور علاج معالجے کی سہولیات سے محروم ہیں اور جو اب ٹھٹھرتی سردی کا بھی سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ کب تک غزہ کے مظلوم مسلمان بھائی یہ لاشیں برداشت کرتے رہیں عشروں سے جاری ان مظالم کا خاتمہ اب ہو جانا چاہیے۔
