اسلام آباد: ملک بھر میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گندم کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے چاروں صوبوں نے وفاقی حکومت سے مجموعی طور پر 22 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کا انتظام ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے کیا جائے گا۔

یہ امور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی ویٹ بورڈ کے اجلاس میں زیر غور آئے، جہاں ملک میں گندم کی دستیابی، صوبائی ضروریات اور درآمدی منصوبے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ درآمدی گندم کی خریداری کے لیے متعلقہ صوبے بیک ٹو بیک لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) جاری کریں گے۔ اگر کسی مرحلے پر ادائیگی میں کمی یا تاخیر ہوئی تو متعلقہ رقم قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبے کے حصے سے ایڈجسٹ کی جا سکے گی۔

اجلاس کے دوران ملک میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران آٹے کی اوسط قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ بعض شہروں میں فی کلو قیمت ملک کی اوسط سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، جس سے صارفین پر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

صوبائی حکومتوں نے اپنی اپنی ضروریات سے آگاہ کرتے ہوئے پنجاب کی جانب سے 10 لاکھ میٹرک ٹن، سندھ کی جانب سے 7 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن، خیبرپختونخوا کی جانب سے 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن اور بلوچستان کی جانب سے 57 ہزار 500 میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کی درخواست پیش کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کی ضرورت پاسکو کے ذخائر، درآمدی گندم یا دونوں ذرائع کو بروئے کار لا کر پوری کی جا سکتی ہے، جبکہ سندھ نے درآمدی گندم اور پاسکو کے ذخائر سے گندم حاصل کرنے کے منصوبے سے اتفاق کیا ہے۔

نجی شعبے کے نمائندوں نے اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ گندم کی درآمد میں نجی شعبے کو بھی شامل کیا جائے اور بین الصوبائی نقل و حمل پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے، تاہم وفاقی ویٹ بورڈ نے یہ تجاویز منظور نہیں کیں اور واضح کیا کہ موجودہ مرحلے میں صوبوں کی ضروریات صرف ٹی سی پی کے ذریعے درآمد کی جانے والی گندم سے پوری کی جائیں گی۔

حکام کے مطابق درآمدی گندم کی خریداری شفاف اور مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے مکمل کی جائے گی، جبکہ صوبوں کے نمائندوں کو خریداری اور تکنیکی کمیٹیوں میں شامل کیا جائے گا تاکہ معیار، نگرانی اور شفافیت کو ہر مرحلے پر یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *