موسمیاتی تبدیلی اور دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے پیشِ نظر جاپان نے شدید گرمی سے تحفظ کے لیے ایک جدید کولنگ سسٹم متعارف کرایا ہے، جسے “ہیومن فریج” کا نام دیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد شدید گرم ماحول میں کام کرنے والے افراد کو کم وقت میں جسم کو ٹھنڈک فراہم کرنا اور گرمی سے متعلق جسمانی خطرات میں کمی لانا ہے۔
جاپانی کمپنی کی جانب سے تیار کیے گئے اس نظام میں ایک شخص مخصوص کیبن کے اندر کھڑا ہوتا ہے، جہاں طاقتور کولنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے چند منٹ کے اندر جسم کا درجۂ حرارت کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام خاص طور پر ہیٹ اسٹروک اور ہیٹ ایگزاسشن جیسے مسائل سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ کولنگ یونٹ جسامت میں ایک بڑے ریفریجریٹر یا وینڈنگ مشین سے مشابہ ہے۔ اس کے اندر کا ماحول تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ پر برقرار رکھا جاتا ہے، جبکہ نہایت ٹھنڈی ہوا براہِ راست سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب بھیجی جاتی ہے تاکہ جسم کو تیزی سے ٹھنڈک پہنچ سکے۔
صارفین کی حفاظت کے لیے اس سسٹم میں خودکار حفاظتی فیچر بھی شامل کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک یونٹ کے اندر رہے تو مشین خودکار طور پر بند ہو جاتی ہے، جس سے جسم کا درجۂ حرارت ضرورت سے زیادہ کم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد کولنگ سسٹم ہے، جو پورے جسم کو ایک ساتھ ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور روایتی ٹھنڈک فراہم کرنے والے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار نتائج دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی ایک اور اہم خصوصیت اس کی نسبتاً کم بجلی کھپت بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث اسے صنعتی مقامات، تعمیراتی منصوبوں، فیکٹریوں، کھیلوں کے مراکز اور دیگر گرم ماحول میں استعمال کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی ہونے کے باعث اس کی قیمت عام کولنگ آلات کے مقابلے میں کافی زیادہ رکھی گئی ہے۔
