قصور: 70 سالہ خاتون کے لاپتا ہونے کا معمہ حل، دو بھتیجے قتل کے الزام میں گرفتار
قصور میں تقریباً نو ماہ قبل لاپتا ہونے والی 70 سالہ خاتون کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون کو مبینہ طور پر جائیداد کے تنازع پر قتل کرکے گھر کے صحن میں دفن کر دیا گیا تھا، جبکہ اس مقدمے میں مقتولہ کے دو بھتیجوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق نتھے جاگیر کی رہائشی غیر شادی شدہ سرداراں بی بی کے لاپتا ہونے کے بعد ان کے بھائی کی مدعیت میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی نگرانی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے مختلف پہلوؤں سے تفتیش، علاقے میں سرچ آپریشن، مقامی افراد سے پوچھ گچھ اور متعلقہ مقامات پر معلومات اکٹھی کیں، تاہم ابتدائی مراحل میں خاتون کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
تفتیش کے دوران بعض شواہد اور معلومات کی بنیاد پر مقتولہ کے دو بھتیجوں سے مزید پوچھ گچھ کی گئی۔ پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ جائیداد کے تنازع پر اپنی پھوپھی کو گلا دبا کر قتل کرنے کے بعد لاش کو اپنے گھر کے صحن میں دفن کر دیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر گھر کے صحن سے خاتون کی باقیات برآمد کر لی گئیں، جنہیں قانونی کارروائی اور ضروری فرانزک و پوسٹ مارٹم مراحل کے لیے متعلقہ لوگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے دونوں ملزمان کے خلاف قتل سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی جاری ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے تاکہ تمام حقیقت سامنے لائے جا سکیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) قصور آفتاب احمد پھلروان نے اندھے قتل کے اس مقدمے کو ٹریس کرنے پر تفتیشی ٹیم اور تھانہ صدر پھولنگر پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اہلکاروں کو شاباش دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید خطوط پر تفتیش اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی کے ذریعے سنگین مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جائیداد کے تنازعات بعض اوقات خاندانی رشتوں کو بھی شدید متاثر کر دیتے ہیں، تاہم ایسے معاملات میں حتمی حقائق کا تعین عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوتا ہے۔
