ٹوکیو: جاپان کے جنوبی حصے کیوشو میں آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں، جبکہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ مختلف حادثات میں جان گنوانے والوں کی تعداد 13 تک پہنچ چکی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹا کر لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق سات اعشاریہ ایک شدت کے زلزلے نے متعدد ،جگہوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ کوماموتو کے قریب واقع ایک بڑے شاپنگ سینٹر کو شدید متاثر ہونے کے بعد اس کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا، جبکہ واقعے کے کچھ دیر بعد وہاں ممکنہ دھماکے کی بھی اطلاع ملی، جس کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے کئی افراد کو زندہ نکالا، تاہم بعض زخمی بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئے۔ حکام کے مطابق عمارت میں کام کرنے والے چند افراد کا اب بھی سراغ نہیں مل سکا، جبکہ زلزلے کے فوری بعد موجود خریداروں اور دیگر شہریوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
جاپانی حکومت نے کہا ہے کہ ہر ممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متاثرین کی جانیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے اور متاثرہ علاقوں تک ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
دوسری جانب امدادی ٹیموں نے متاثرہ شاپنگ سینٹر میں گیس کے اخراج کے شواہد بھی رپورٹ کیے ہیں، جس کے باعث ممکنہ دھماکے کے مختلف پہلوؤں کا تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔
قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے ہزاروں فوجی اہلکار، پولیس، فائر فائٹرز اور ریسکیو کارکن متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں۔ ایک صنعتی تنصیب میں چمنی گرنے کے باعث متعدد افراد لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جبکہ کئی زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے تحت تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ زلزلے کے بعد ایمرجنسی سروسز کو سینکڑوں کالز موصول ہوئیں، جن میں عمارتوں کے منہدم ہونے، سڑکوں کو نقصان پہنچنے اور افراد کے پھنس جانے کی اطلاعات شامل تھیں۔
زلزلے سے کئی شاہراہیں متاثر ہوئی ہیں، بعض مقامات پر سڑکوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، متعدد عمارتیں ناقابلِ استعمال ہو چکی ہیں اور ایک پل کا حصہ بھی گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث کئی تجارتی مراکز اور کاروباری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز تک آفٹر شاکس، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی خطرات کا امکان برقرار ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں گھروں کی بجلی ابھی تک بحال نہیں ہو سکی۔ شدید گرمی کے باعث امدادی مراکز میں موجود افراد کو ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے
