امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک متعدد فوجی تنصیبات کو فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے ایسے اہداف پر کیے گئے جنہیں عسکری سرگرمیوں کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی امریکی افواج پر مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد ردِعمل کے طور پر کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد خطے میں موجود امریکی اہلکاروں، اتحادی ممالک اور بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی بیان کے مطابق حملوں کے دوران فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون سے متعلق تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام اور بحری عسکری صلاحیتوں سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جزیرہ قشم اور آبادان کے اطراف مختلف مقامات پر میزائل حملے ہوئے، جن کے بعد سیکیورٹی ادارے متحرک ہو گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق قشم کے قریب ایک مقام پر علی الصبح دھماکے کی اطلاع ملی، جبکہ خوزستان کے علاقے آبادان کے نواح میں بھی حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات یا ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ادھر امریکی حکام نے بھی کارروائی کے نتائج یا ممکنہ نقصانات سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کیں، جس کے باعث صورتحال سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غیر یقینی برقرار ہے۔
دفاعی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات خلیجی خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی رسد اور بین الاقوامی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
