تہران: ایران نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی رابطوں اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حوثیوں کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر ایران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ تہران ان اقدامات سے خود کو الگ سمجھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں حملوں اور جنگ کے تسلسل کے بجائے سیاسی ذرائع اور سفارتی رابطوں کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سیاسی کوششوں کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں حوثیوں سے منسلک کارروائیوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث صورتحال پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد مختلف فریقوں کی جانب سے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے حوثیوں کی کارروائیوں سے لاتعلقی کا اظہار علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی مؤقف کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تہران مسلسل سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کے حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی جانب سے بھی فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت اجاگر کی جا رہی ہے۔ صورتحال میں کسی بھی نئی پیش رفت کے علاقائی امن و سلامتی پر اثرات مرتب ہونے کا امکان موجود ہے
