ایران کی فوج اور جوہری صلاحیت مفلوج کردی، امریکی وزیر دفاع کا بڑا دعویٰ
واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ، فضائیہ، دفاعی نظام، کمانڈ اسٹرکچر اور فوجی صنعتی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ تہران کے جوہری پروگرام کی صلاحیتوں کو بھی متاثر کیا گیا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے یہ بیان ورجینیا میں میرین کور بیس کوانٹیکو میں امریکی فوجی اہلکاروں سے خطاب کے دوران دیا۔ ان کی تقریر میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ امریکی دفاعی نظام میں مجوزہ بڑی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
امریکی وزیر دفاع کے مطابق امریکی افواج نے ایران کی روایتی عسکری صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائیوں میں ایرانی بحریہ، فضائیہ، ایئر ڈیفنس، فوجی قیادت اور دفاعی صنعت سے وابستہ اہداف شامل تھے۔
ہیگسیتھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کا ایک اہم مقصد ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
تاہم ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں سے متعلق امریکی وزیر دفاع کے ان دعوؤں کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں۔ دستیاب رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔
امریکی دفاعی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان
پیٹ ہیگسیتھ نے اپنی تقریر میں امریکی محکمہ دفاع کے مستقبل کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کا اعلان بھی کیا۔ ان میں خودکار اور روبوٹک جنگی ٹیکنالوجی کے لیے ایک نئی چار ستارہ کمانڈ کا قیام شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ Autonomous Warfare Command کا مقصد ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور دیگر خودکار و روبوٹک نظاموں کی تیاری اور فوجی استعمال کو تیز کرنا ہے۔ اس کمانڈ کو امریکی فوج کی مختلف شاخوں میں خودکار جنگی صلاحیتوں کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
امریکی حکام کے مطابق اس نئی کمانڈ کو قائم کرنے کا عمل آئندہ عرصے میں مکمل کیا جائے گا، جبکہ اسے باقاعدہ طور پر فعال کرنے کے لیے بعض معاملات میں کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
امریکی وزیر دفاع نے فوجی قیادت کےخدوخال میں بھی تبدیلی کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق امریکی مسلح افواج میں جنرلز اور ایڈمرلز کی مجموعی تعداد میں 20 فیصد کمی کی جائے گی۔
ہیگسیتھ نے اس اقدام کو احتساب اور فوجی کمانڈ کو زیادہ مؤثر بنانے سے جوڑا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت بعض اعلیٰ عہدوں کو ختم کرنے یا کم درجے کے عہدوں میں تبدیل کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
مستقبل کی جنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی پر توجہ
ہیگسیتھ نے امریکی فوج کی مستقبل کی حکمت عملی میں ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق جنگ کا طریقہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور امریکی فوج کو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو جدید بنانا ہوگا۔ نئی کمانڈ کے ذریعے خودکار اور روبوٹک نظاموں کی تیاری، خریداری اور میدانِ جنگ میں استعمال کے عمل کو تیز کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔
کوانٹیکو میں ہونے والی اس تقریر کو امریکی محکمہ دفاع کی مستقبل کی سمت کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اس میں ایران سے متعلق امریکی فوجی دعووں کے ساتھ ساتھ دفاعی قیادت، ڈرون ٹیکنالوجی اور خودکار جنگی نظاموں میں بڑی تنظیمی تبدیلیوں کا خاکہ بھی پیش کیا گیا۔
