ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ، سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں

تہران: ایران نے بحرین سمیت خطے کے دیگر ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فوجی تنصیبات یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق ایسی کسی بھی کارروائی کی اجازت دی گئی تو تہران کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ انتباہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ایران کے مستقل مشن کے دوسرے سیکریٹری علی کریمی مقام نے کیا۔

علی کریمی مقام نے بحرین کے نمائندے کی جانب سے انسانی حقوق کے معاملے پر پیش کیے گئے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بحرین نے موجودہ صورتحال کے پس منظر میں پیش آنے والے واقعات اور ان کے اسباب کو نظر انداز کیا ہے۔

بحرین کے مؤقف پر ایران کا ردعمل

ایرانی سفارت کار نے بحرین کی جانب سے خود کو موجودہ صورتحال میں متاثرہ فریق قرار دینے کے مؤقف کو بھی مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف مبینہ امریکی فوجی کارروائی کے لیے بحرین کی جانب سے اپنی سرزمین، فوجی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی گئی۔

علی کریمی مقام نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی ملک اپنے ہمسایہ ملک کے خلاف جنگ یا فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین اور دیگر عسکری سہولیات فراہم کرتا ہے تو اسے بعد میں اس اقدام کے ممکنہ ردعمل پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق ایران پہلے بھی خطے کے ممالک کو خبردار کرچکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر کسی ملک کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے لیے سہولت فراہم کی گئی تو تہران اس کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی

ایران کی جانب سے یہ سخت بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

خطے میں موجود مختلف فوجی اڈوں اور دفاعی تنصیبات کے ممکنہ استعمال کا معاملہ بھی حساس حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو دیا جانے والا حالیہ پیغام اسی علاقائی تناؤ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ پڑوسی ممالک کی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ ایسی کسی بھی سہولت کاری کی صورت میں وہ اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کے لیے بھی صورتحال حساس ہے، کیونکہ کسی بھی فوجی تصادم کی صورت میں اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی، تجارت اور سفارتی تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *