ایران کا امریکی معاشی دباؤ پر ردعمل، تہران نے خودمختار ممالک کے فیصلوں کا دفاع کردیا

تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے تہران کے ساتھ اقتصادی روابط محدود کرنے کے لیے مختلف ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دنیا کے آزاد ممالک اپنے معاشی اور تجارتی معاملات کا فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے بجائے اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے حالیہ مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ غریب آبادی کے مطابق کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے یہ قابل قبول نہیں کہ وہ اپنے تجارتی تعلقات کسی دوسرے ملک کی ہدایات کے تحت طے کرے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے امریکی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مختلف ملکوں پر ایران کے ساتھ اقتصادی روابط محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے، تاہم تہران کے مطابق بین الاقوامی تعلقات میں ہر ملک کو اپنی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کے خلاف معاشی پابندیوں اور مالی دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اگست 2026 میں Operation Economic Outcast کے نام سے ایران کے خلاف وسیع معاشی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واشنگٹن کے مطابق اس مہم کا مقصد ایران سے جڑے مالی اور تجارتی نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے اس مہم کے تحت ایران کے مالیاتی شعبے، ایوی ایشن اور مبینہ طور پر پابندیوں سے بچنے والے نیٹ ورکس کے خلاف مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ستمبر میں روسی بینک سمیت متعدد اداروں پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ایران سے متعلق پابندیوں سے بچنے کی سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا۔

اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتحادی اور دیگر ممالک پر بھی زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایسے اقتصادی روابط سے گریز کریں جن سے تہران کو مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایران سے منسلک مالی ذرائع کو محدود کرنا اس کی وسیع تر اقتصادی پالیسی کا حصہ ہے۔

دوسری جانب تہران امریکی پالیسی کو اپنے خلاف معاشی دباؤ قرار دیتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں اور دھمکیوں کے ذریعے دیگر ممالک کے ساتھ ایران کے تجارتی تعلقات ختم کرانے کی کوششیں عالمی سطح پر خودمختار فیصلوں کے اصول سے متصادم ہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں اس امر پر بھی زور دیا کہ مختلف ممالک ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنے مفادات کو ترجیح دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ممالک کے اقتصادی فیصلوں کو اپنے احکامات کے ذریعے کنٹرول کرے۔

ایران اور امریکا کے درمیان یہ نیا اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی رابطوں سے متعلق معاملات بھی مسلسل زیر بحث ہیں۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی نے بھی واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کے باوجود سفارتی راستے کی بات بھی مختلف مواقع پر سامنے آتی رہی ہے۔ تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے معاشی اور فوجی دباؤ کے ماحول میں تبدیلی ضروری ہے، جبکہ امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ قرار دے رہا ہے۔

یوں ایران اور امریکا کے درمیان تنازع صرف سیاسی یا عسکری معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی تجارت اور دیگر ممالک کے تہران کے ساتھ اقتصادی روابط بھی اس کشمکش کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *