: بہاولنگر تھانہ سٹی اے ڈویژن کی حدود میں ظلم کی انتہا؟ کینسر کے مرض میں مبتلا غریب محنت کش ریڑھی بان محمد سلمان محسن اور اس کے والد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد، بلدیہ ملازم محمد مشتاق پر سنگین الزامات، آخر ایک بیمار اور مجبور خاندان کو انصاف کون دلائے گا؟
خبر شامل کرتے ہیں بہاولنگر سے ہمارے سٹی رپورٹر ملک عاقب مشتاق سے۔۔ : بہاولنگر میں ایک غریب محنت کش خاندان کی فریاد سامنے آگئی، جہاں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ریڑھی لگانے والے نوجوان محمد سلمان محسن اور اس کے والد کے ساتھ مبینہ طور پر بلدیہ کے ملازم محمد مشتاق کی جانب سے ناروا سلوک کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ آخر ایک بیمار اور محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے والے شخص کو انصاف کب ملے گا؟ کیا قانون صرف طاقتور کے لیے ہے یا غریب کو بھی تحفظ حاصل ہے؟ : بہاولنگر تھانہ سٹی اے ڈویژن کی حدود میں پیش آنے والے اس واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک طرف کینسر جیسے موذی مرض سے زندگی کی جنگ لڑنے والا محنت کش محمد سلمان محسن، جو ریڑھی لگا کر روزی کماتا ہے، تو دوسری جانب اس کے والد بھی مبینہ ناروا سلوک کی شکایت لے کر انصاف کے منتظر ہیں۔
متاثرہ خاندان کی جانب سے بلدیہ کے ملازم محمد مشتاق پر ظلم و زیادتی اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک بیمار نوجوان اور اس کے غریب والد کی داد رسی کون کرے گا؟ کیا متعلقہ حکام اس معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروا کر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے؟
وزیراعلیٰ پنجاب، ڈی پی او بہاولنگر،،،ڈپٹی کمشنر بہاولنگر اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، متاثرہ خاندان کا مؤقف سنا جائے اور شفاف تحقیقات کے بعد انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
