برمنگھم ٹیسٹ: صائم ایوب کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات روشن

برمنگھم: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ایجبسٹن میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل قومی ٹیم کی پلیئنگ الیون میں متعدد تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے اگلے میچ کے لیے دستیاب کھلاڑیوں کے مختلف کمبی نیشنز پر غور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انگلینڈ کے خلاف برمنگھم ٹیسٹ میں نوجوان بیٹر صائم ایوب کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات خاصے روشن ہوگئے ہیں۔ صائم ایوب نے حال ہی میں کیریبین پریمیئر لیگ میں جمیکا کنگز کی نمائندگی کرتے ہوئے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد انہیں انگلینڈ کی کنڈیشنز میں بھی پاکستان کے لیے ایک اہم آپشن تصور کیا جا رہا ہے۔

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مزید سات کھلاڑیوں کو انگلینڈ طلب کیا ہے تاکہ اسکواڈ میں موجود خامیوں کو دور کرتے ہوئے تیسرے ٹیسٹ کے لیے مضبوط کمبی نیشن تشکیل دیا جاسکے۔ ان کھلاڑیوں میں صائم ایوب کو سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی حتمی الیون میں شمولیت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن گزشتہ میچوں میں توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے اور مسلسل کم اسکورز کے باعث ٹیم مینجمنٹ کو بیٹنگ آرڈر میں تبدیلیوں پر بھی غور کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں صائم ایوب کی واپسی بیٹنگ لائن کو مزید استحکام فراہم کرنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بیٹنگ لائن میں بابر اعظم کو پانچویں نمبر پر بھیجنے کا امکان موجود ہے، جبکہ شان مسعود، صائم ایوب، عبداللہ شفیق اور دیگر بیٹرز کی پوزیشنز کے حوالے سے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ حتمی فیصلہ میچ سے قبل کھلاڑیوں کی فارم، پچ کی صورتحال اور انگلینڈ کی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

بولنگ کے شعبے میں بھی پاکستان ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔ فاسٹ بولرز عبید شاہ اور رضا اللہ حتمی پلیئنگ الیون میں جگہ بنانے کے امیدواروں میں شامل ہیں۔ عبید شاہ ایک ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں، جبکہ رضا اللہ اپنی غیر روایتی بولنگ ایکشن اور تیز رفتار گیندوں کے باعث انگلش بیٹرز کے لیے مختلف نوعیت کا چیلنج ثابت ہوسکتے ہیں۔

ٹیم مینجمنٹ انگلینڈ کی سرد اور ابر آلود کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے فاسٹ بولنگ کے شعبے کو مزید مؤثر بنانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ ایجبسٹن کی کنڈیشنز میں سوئنگ اور سیم بولنگ کے امکانات کو دیکھتے ہوئے فاسٹ بولرز کا کردار تیسرے ٹیسٹ میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نئے کوچنگ سیٹ اپ میں مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے بھی شامل ہیں، جو ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ کوچنگ اسٹاف کی جانب سے کھلاڑیوں کی فارم اور دستیاب آپشنز کا جائزہ لے کر بہترین پلیئنگ الیون تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے تیسرے ٹیسٹ سے قبل شائقین کی نظریں بھی ممکنہ پلیئنگ الیون پر مرکوز ہیں، جبکہ صائم ایوب کی واپسی کو ٹیم کے لیے ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ حتمی فیصلہ میچ سے قبل ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *