واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے پر کسی بھی قسم کی ندامت کا اظہار کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ اسی صورتحال میں فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو وہ ایک مرتبہ پھر یہی اقدام کریں گے، چاہے اس کا اثر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی کارکردگی پر پڑے۔
رائٹرز کے مطابق فوکس نیوز کی میزبان لورا انگراہم کے ساتھ گفتگو میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ان کے نزدیک درست تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر انہیں دوبارہ یہی فیصلہ کرنا پڑا تو وہ اپنا مؤقف تبدیل نہیں کریں گے اور اسی انداز میں کارروائی کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات اور قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کردیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث ان کے سیاسی حامیوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ان کے حامی اس بات کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں کہ ان کی انتظامیہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بھی اپنے سابقہ دعوے کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
رائٹرز کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا معاملہ بھی امریکی سیاست میں اہم حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ مہنگائی اور عوامی اخراجات براہ راست ووٹرز کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی عوام کی جانب سے ایران جنگ کی حمایت کے حوالے سے مختلف سروے محدود عوامی تائید کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ رائٹرز اور اِپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق صرف 25 فیصد امریکی شہریوں نے ایران کے خلاف جنگ کو قابلِ قدر قرار دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے حوالے سے عوامی رائے میں مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔
ایران جنگ کا معاملہ آنے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کے لیے خاص اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔ جنگ کے ممکنہ اثرات، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی عوام کی محدود حمایت ایسے عوامل ہیں جنہیں انتخابی مہم کے دوران مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی نمایاں کیا جا سکتا ہے۔
