ایرانی آئل ٹینکرز پر امریکی حملوں کے بعد ایران کا جوابی ردعمل، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

تہران: ایرانی آئل ٹینکرز کو امریکی فورسز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے دعوے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے متعدد میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ خطے میں بڑے فوجی تصادم کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔

روسی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں میں امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اردن میں امریکی ایف 35 اور ایف 15 جنگی طیاروں کے لیے قائم ہینگرز بھی ایرانی کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکی کارروائی کے جواب میں اردن کے علاقے الازرق میں موجود امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ امریکا کے خلاف جوابی کارروائی میں دشمن کو غیر معمولی نقصان پہنچایا گیا۔

روسی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے بعد اردن میں موجود امریکی دفاعی نظام بھی متحرک ہوگیا اور مبینہ طور پر متعدد میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ان حملوں کے حوالے سے فریقین کی جانب سے سامنے آنے والے دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب اردنی فوج نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے مجموعی طور پر 20 میزائل داغے گئے۔ اردنی حکام کے مطابق ان میں سے 18 میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی روک لیا گیا، جبکہ 2 میزائل آبادی سے باہر کے علاقوں میں جا کر گرے۔ حکام نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹکام، نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ایران کے 5 خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو تباہ کیا۔ امریکی کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے ایک امریکی جنگی بحری جہاز کو دو روز کے دوران دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی۔

سینٹکام کا کہنا تھا کہ امریکی جنگی جہاز نے ایرانی میزائل حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی فوجی اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری طرف ایرانی بحریہ نے خلیجی خطے میں موجود آئل ٹینکرز کے عملے کو بھی خبردار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں پر موجود آئل ٹینکرز کے عملے کو ہدایت کی ہے کہ جہاں امریکی اہلکار موجود ہوں، وہاں سے عملے کے انخلا کو یقینی بنایا جائے۔

ایران کی جانب سے تازہ جوابی کارروائی اور امریکا کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات خلیجی خطے کی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور عالمی تیل کی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں کسی بڑے فوجی تصادم کے امکانات کو بھی نمایاں کردیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *