دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے امریکہ سے آنے والی یہ خبریں یقیناً انتہائی خوش آئند، حوصلہ افزا اور قابلِ فخر ہیں کہ امریکی سیاست میں مسلمان شخصیات نہ صرف اپنی جگہ بنا رہی ہیں بلکہ کامیابی کے نئے ریکارڈ بھی قائم کر رہی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ماضی میں مسلمانوں کو مختلف تعصبات، مذہبی امتیاز اور سماجی مشکلات کا سامنا رہا، وہاں مسلمانوں کا اہم سیاسی عہدوں تک پہنچنا ایک بڑی کامیابی اور بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔
نیویارک کے پہلے مسلمان میئر زوہران ممدانی کی کامیابی اور مشی گن سے ڈاکٹر عبدالسید کی انتخابی کامیابی امریکی سیاست میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ کامیابیاں محض دو شخصیات کی انتخابی فتح نہیں بلکہ ان لاکھوں مسلمانوں کے لیے خوشی اور حوصلے کا پیغام ہیں جو امریکہ میں رہتے ہوئے اپنی مذہبی شناخت، ثقافت اور بنیادی حقوق کے ساتھ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ امریکہ جیسے طاقتور اور دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات رکھنے والے ملک میں کسی مسلمان کا بڑے سیاسی منصب تک پہنچنا معمولی بات نہیں۔ اس کامیابی کے پیچھے طویل سیاسی جدوجہد، عوامی رابطہ، انتخابی مہم، محنت اور لوگوں کا اعتماد شامل ہوتا ہے۔ زوہران ممدانی کی نیویارک کے میئر کی حیثیت سے کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی مسائل کو سمجھنے، عام شہریوں کے حقوق کی بات کرنے اور بہتر مستقبل کا پیغام دینے والے امیدوار عوامی حمایت حاصل کرسکتے ہیں۔تاہم ان کامیابیوں کا سب سے زیادہ قابلِ توجہ اور خوش آئند پہلو فلسطین کے حوالے سے ان شخصیات کے واضح مؤقف ہیں۔ خصوصاً ڈاکٹر عبدالسید نے فلسطینی عوام کے حق میں جس جرأت اور دوٹوک انداز میں آواز بلند کی ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو امریکی فوجی امداد جاری رکھنے کے معاملے پر سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام پر ظلم و تشدد کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ایسے اقدامات کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے جن کے نتیجے میں بے گناہ انسانوں کی زندگیاں تباہ ہوں۔
ان کے یہ بیانات اس لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں کہ امریکہ عالمی سیاست میں ایک انتہائی بااثر ملک ہے اور اسرائیل کو امریکی سیاسی، سفارتی اور فوجی حمایت حاصل رہی ہے۔ ایسے ماحول میں فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنا اور اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرنا یقیناً ایک جرأت مندانہ سیاسی مؤقف ہے۔ کسی بھی منتخب نمائندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اپنے ووٹروں کے مسائل ہی نہیں بلکہ انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے معاملات پر بھی اپنا کردار ادا کرے۔
ڈاکٹر عبدالسید کا یہ کہنا کہ اسرائیل کو فلسطینی عوام پر مظالم اور نسل کشی جیسے جرائم کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے، ایک ایسا مؤقف ہے جسے دنیا بھر میں انصاف پسند حلقے اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔ ان کا یہ مطالبہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسرائیل کو فوجی امداد دینے کے معاملے پر نظرثانی کی جائے اور امریکی وسائل کو انسانی تباہی کے بجائے عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔
آج فلسطین، بالخصوص غزہ کے مظلوم عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ پوری انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک بڑا سوال ہیں۔ تباہ شدہ گھر، ملبے میں تبدیل ہونے والی بستیاں، بے گھر خاندان، بھوک اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے والے معصوم بچے اور اپنے پیاروں کو کھونے والی مائیں دنیا کی توجہ کے منتظر ہیں۔ فلسطینی عوام کو صرف چند ہمدردانہ بیانات کی نہیں بلکہ عملی اقدامات، انصاف، تحفظ اور اپنے بنیادی حقوق کی ضمانت کی ضرورت ہے۔ایسے میں جب امریکی سیاست کے اندر سے کوئی مسلمان رہنما فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتا ہے تو اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ یہ آواز صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں رہتی بلکہ امریکی معاشرے، سیاسی حلقوں اور عالمی رائے عامہ تک پہنچتی ہے۔ اس سے فلسطین کا مسئلہ امریکی عوام کے سامنے مزید نمایاں ہوتا ہے اور وہاں موجود ان لوگوں کو بھی حوصلہ ملتا ہے جو طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حق میں پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ دنیا میں کوئی بھی مذہب یا قومیت کسی بے گناہ انسان پر ظلم کی اجازت نہیں دیتی۔ فلسطینی بچے بھی اسی طرح امن، تعلیم، صحت، تحفظ اور بہتر مستقبل کے حق دار ہیں جس طرح دنیا کے دوسرے ممالک کے بچے ہیں۔ ان کے گھروں کی تباہی، ان کی بے گھری اور ان کی زندگیوں کو لاحق خطرات پر آواز اٹھانا کسی مذہب یا قوم کی مخالفت نہیں بلکہ انسانیت سے محبت کا تقاضا ہے۔
آج فلسطین کے مظلوم عوام کو دنیا کے ہر کونے سے اٹھنے والی سچی اور مؤثر آواز کی ضرورت ہے۔ انہیں ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر انسانی حقوق کی بات کریں، جو طاقتور کے سامنے بھی مظلوم کا مقدمہ پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں اور جو جنگ و تباہی کے بجائے امن، انصاف اور انسانی وقار کی حمایت کریں۔
امید ہے کہ امریکی سیاست میں کامیاب ہونے والی یہ مسلمان شخصیات فلسطین کے معاملے پر اپنے مؤقف کو مزید مضبوط کریں گی اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے استعمال کریں گی۔ انہیں چاہیے کہ وہ امریکی پالیسی ساز اداروں میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور اسرائیلی پالیسیوں کے احتساب کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہی وہ عملی اقدامات ہیں جن سے ان کی سیاسی کامیابی مظلوم انسانوں کے لیے حقیقی امید میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
بلاشبہ، یہ کامیابی صرف زوہران ممدانی یا ڈاکٹر عبدالسید کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ امریکہ میں آباد مسلمانوں کے لیے فخر، مسلم دنیا کے لیے خوشی اور فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے امید کا ایک نیا پیغام ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین سیاسی نظاموں میں بھی ایسی آوازیں موجود ہیں جو مظلوموں کے حق میں بولنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔
دنیا میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو غزہ کےمظلومین کے درد کو محسوس کرتے ہیں، ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ امید کی یہ آوازیں ایک دن ضرور انصاف، امن اور آزادی کی منزل تک پہنچنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔
