ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، امریکا اور وینزویلا کے درمیان تاریخی تیل معاہدہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان تیل سے متعلق تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی تیل کے ذخائر اور عالمی منڈی میں خام تیل کی رسد پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی ہدایت پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ معاہدہ کیا۔
امریکی صدر کے مطابق اس معاہدے میں نجی شعبے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ امریکا کو وینزویلا کے تیل کے بڑے ذخائر میں اکثریتی کنٹرول حاصل ہوگا۔
وینزویلا کے تیل ذخائر سے متعلق ٹرمپ کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے پاس 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں اور مجوزہ معاہدے کے ذریعے ان ذخائر میں امریکی کردار نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں امریکا کے مجموعی تیل ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق وینزویلا کے تیل کی عالمی مارکیٹ میں آمد بڑھنے سے مستقبل میں توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
امریکی شہریوں کو پیٹرول سستا ملنے کا امکان، ٹرمپ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی بڑھ سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق اس صورتحال کا فائدہ امریکی صارفین کو بھی پہنچ سکتا ہے اور مستقبل میں امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آسکتی ہے۔
وینزویلا کی معیشت اور دوطرفہ تعلقات
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ تیل کے شعبے میں تعاون سے وینزویلا کی معیشت کو دوبارہ مستحکم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے بقول اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے سے وینزویلا میں خوشحالی کے امکانات بڑھیں گے۔
امریکی صدر نے امریکا اور وینزویلا کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کو بھی معاہدے کا اہم پہلو قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
تاہم، معاہدے کی مکمل شرائط، اس کی قانونی حیثیت اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول سے متعلق تفصیلات الگ سے واضح ہونا باقی ہیں۔ اس حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے کے بعد صورتحال زیادہ واضح ہوسکے گی۔
