مظفر نگر فسادات: 13 برس بعد بھی زخم مندمل نہ ہوسکے
مظفر نگر: بھارت کی ریاست اتر پردیش کا شہر مظفر نگر 2013 میں ہونے والے بدترین فرقہ وارانہ تشدد کے باعث آج بھی ایک تلخ باب کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگست اور ستمبر 2013 میں ہونے والی جھڑپوں نے نہ صرف درجنوں جانیں لیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کردیا۔
معمولی تنازع سے بڑے پیمانے کے تشدد تک
27 اگست 2013 کو اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے علاقے کواال میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ابتدائی تنازع نے جلد ہی فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرلیا اور مختلف علاقوں میں تشدد پھیل گیا۔
صورتحال اس قدر سنگین ہوگئی کہ ریاستی انتظامیہ کو فوج طلب کرنا پڑی۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق مظفر نگر اور شاملی اضلاع میں قائم 58 ریلیف کیمپوں میں تقریباً 51 ہزار افراد نے پناہ لی۔ کمیشن نے متاثرہ کیمپوں میں رہائش، خوراک، طبی سہولیات اور سکیورٹی سے متعلق متعدد مسائل کی بھی نشاندہی کی تھی۔
ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے
فسادات کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ کئی خاندان طویل عرصے تک ریلیف کیمپوں میں مقیم رہے اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی رہی۔
بھارتی حکام کے مطابق مختلف متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد اور دیگر بحالی اقدامات فراہم کیے گئے، تاہم انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس نے متاثرین کی مشکلات اور ریلیف کیمپوں کے حالات پر بھی سوالات اٹھائے۔
سوشل میڈیا اور اشتعال انگیز مواد کا کردار
مظفر نگر تشدد کے دوران سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پرانی ویڈیو بھی شدید بحث کا موضوع بنی۔ پولیس اور بعد میں جسٹس وشنو سہائے کمیشن کی کارروائی میں اس ویڈیو کے پھیلاؤ کو کشیدگی بڑھانے والے عوامل میں شمار کیا گیا۔ ویڈیو کے بارے میں تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ دراصل پرانی فوٹیج تھی، جسے مختلف دعووں کے ساتھ پھیلایا گیا۔
اس معاملے میں بی جے پی رہنما سنگیت سوم کا نام بھی سامنے آیا تھا، تاہم ان کے خلاف درج مقدمے میں بعد ازاں پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کلوزر رپورٹ پیش کی جسے عدالت نے 2021 میں قبول کرلیا۔ اس لیے اس معاملے کو قطعی طور پر ثابت شدہ جرم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
عدالتی کارروائی بھی جاری رہی
مظفر نگر فسادات سے متعلق مختلف مقدمات کئی برس تک عدالتوں میں زیر سماعت رہے۔ اکتوبر 2022 میں ایک خصوصی MP/MLA عدالت نے بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی وکرم سینی اور 11 دیگر افراد کو 2013 کے فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں ہنگامہ آرائی اور دیگر جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے دو، دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے اسی مقدمے میں 15 دیگر ملزمان کو شواہد کی کمی کے باعث بری بھی کیا۔
13 سال بعد بھی سوال باقی ہیں
مظفر نگر کے واقعات کو 13 برس گزر چکے ہیں، لیکن ان فسادات کی یاد آج بھی متاثرہ خاندانوں، نقل مکانی کرنے والے افراد اور انسانی حقوق کے حلقوں میں زندہ ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی اہم مثال بن چکا ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی، افواہوں، اشتعال انگیز مواد اور انتظامی کمزوریوں کے امتزاج سے معاشرے میں کس قدر گہرے انسانی اور سماجی اثرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
مظفر نگر فسادات کی تاریخ آج بھی بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ جیسے اہم موضوعات پر بحث کا حصہ ہے۔
