ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ختم نہیں ہوئی، ٹرمپ کا اہم بیان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے کو امریکی فوجی آپریشن کے اختتام سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی اور معاشی صورتحال پر بھی بات کی۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کو شدید دباؤ کا سامنا ہے جبکہ اس کی فوجی صلاحیت بھی پہلے کے مقابلے میں محدود ہوئی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی سمیت مختلف معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایران کی موجودہ صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ برقرار ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھل جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائی مکمل طور پر ختم کردی ہے۔ ان کے مطابق ہرمز میں بحری راستہ کھلا ہونے کے باوجود واشنگٹن ایران سے متعلق اپنے فوجی آپشنز برقرار رکھ سکتا ہے۔

ٹرمپ کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے پر آئندہ کے ممکنہ اقدامات کے لیے اپنے تمام آپشنز کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ اس صورتحال میں خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات بھی برقرار ہیں۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں آبنائے ہرمز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے اور عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات اسی سمندری راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی میں کسی بھی قسم کی خرابی عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

امریکا ایران کشیدگی برقرار

ٹرمپ کے تازہ بیان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے مکمل خاتمے سے متعلق قیاس آرائیوں کو ایک مرتبہ پھر تقویت دی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بحالی کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے فوجی کارروائی کے مکمل اختتام کی تردید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

امریکی صدر نے ایران کی موجودہ فوجی اور معاشی مشکلات کو بھی اپنی گفتگو کا حصہ بنایا اور تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب ایران کے حوالے سے امریکا کی آئندہ حکمت عملی خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی توجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ آئندہ اقدامات، آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور عالمی توانائی کی مارکیٹ پر مرکوز ہے۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد خطے میں کشیدگی کے مستقبل اور امریکا کی جانب سے ممکنہ مزید فوجی اقدامات کے حوالے سے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ تاہم آئندہ کی صورتحال کا انحصار واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *