تازہ ترین

بی آر ٹی بدعنوانی کیس میں ضمیر عباسی کا جسمانی ریمانڈ منظور

کراچی: یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کر دیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی ادارے نے ملزم کو پیش کرتے ہوئے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ فریقین کے مؤقف سننے کے بعد عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضمیر عباسی کو چار روز کے لیے اینٹی کرپشن کی تحویل میں دے دیا اور انہیں یکم جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے تحقیقات کی پیش رفت سے متعلق استفسار کیا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم کا باضابطہ بیان ابھی ریکارڈ میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ مزید شواہد اور دستاویزات حاصل کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محرم کی تعطیلات کے باعث تحقیقات کی رفتار متاثر ہوئی۔

اس موقع پر ضمیر عباسی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے اہلِ خانہ کے بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالی ریکارڈ طلب کیے جانے کی وجہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا موبائل فون اور دیگر ذاتی اشیا پہلے ہی تفتیشی حکام کی تحویل میں ہیں۔

ملزم نے مزید دعویٰ کیا کہ منصوبے سے وابستہ کنسلٹنٹ ایک وفاقی وزیر سے قریبی تعلق رکھتا ہے اور سوال اٹھایا کہ اگر تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں تو کیا انہیں مسلسل زیرِ حراست رکھا جائے گا۔

دفاع کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے سے متعلق ٹھیکیداروں کے ساتھ کیے گئے نئے معاہدوں میں بنیادی شرائط تبدیل نہیں کی گئی تھیں۔ دوران سماعت عدالت نے ملزم سے دریافت کیا کہ آیا دورانِ حراست ان کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی یا تشدد ہوا، جس پر ضمیر عباسی نے کسی بھی ایسے الزام کی تردید کی۔

سماعت کے اختتام پر عدالت نے ضمنی چالان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے