پاسپورٹ کنٹرول لسٹ اور سفری پابندیوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا حکم
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سفری پابندیوں اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں نام شامل کرنے کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شہری پر سفری پابندیاں صرف قانونی اختیار اور مقررہ طریقہ کار کے تحت ہی عائد کی جا سکتی ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ بغیر قانونی تقاضے پورے کیے کسی شخص کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا غیر قانونی عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے شہری زین عتیق کا نام پی سی ایل سے فوری طور پر نکالنے کا حکم بھی دے دیا۔
فیصلے کے مطابق مذکورہ شہری کو جولائی 2022 میں ترکیہ سے ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں متعلقہ شہری کی درخواست پر ایف آئی اے نے دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باعث اس کا نام فہرست سے خارج کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم پاسپورٹ اتھارٹی نے درخواست پر کارروائی نہیں کی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ کسی فرد کو محض ڈی پورٹ کیے جانے یا مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد پر غیر معینہ مدت تک پی سی ایل میں رکھنا قانونی طور پر درست نہیں، جب تک کہ مجاز اتھارٹی کی واضح منظوری موجود نہ ہو۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی مجاز ادارے نے درخواست گزار کا نام فہرست میں برقرار رکھنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہو، اور نہ ہی اس کے خلاف پاکستان یا ترکیہ میں کوئی زیر سماعت مقدمہ یا سزا موجود ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں سابقہ عدالتی نظیر کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ سفری پابندیاں صرف قانونی اختیار اور شفاف طریقہ کار کے تحت ہی لگائی جا سکتی ہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ حتمی اختیار متعلقہ پاسپورٹ اتھارٹی کے پاس ہوتا ہے، تاہم ایف آئی اے کی سفارش کو معقول قانونی جواز کے بغیر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا