نوشہرو فیروز کے قریب گاؤں ولی محمد وسطڑو کی رہائشی خواتین امینہ وسطڑو اور ان کی بیٹی نے مبینہ پولیس مظالم سے تنگ آکر نیشنل پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے دہائی دی۔
اس موقع پر امینہ وسطڑو نے الزام عائد کیا کہ ٹھاروشاہ پولیس کے ایس ایچ او قمرالدین تنيو اور کنڈیارو پولیس کے ایس ایچ او اسدالنبی کچھی نے ان کے بیٹے جلال وسطڑو کو گزشتہ تین ماہ سے بلاجواز حراست میں رکھا ہوا ہے اور رہائی کے بدلے 5 لاکھ روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔ رقم نہ دینے کی صورت میں اسے ہاف فرائی کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، اتنی بڑی رقم کہاں سے لائیں؟ جب ہم نے مذکورہ پولیس اہلکاروں کے خلاف 491 اور 22-A/B کے تحت قانونی کارروائی کے لیے درخواستیں دائر کیں تو پولیس نے مبینہ طور پر مزید تنگ کرنا شروع کردیا۔
امینہ وسطڑو کے مطابق دو روز قبل ان کے والد ولی محمد وسطڑو اور کزن جڑیل وسطڑو زمین کے کھاتوں کی تبدیلی کے سلسلے میں بھریا جا رہے تھے کہ مذکورہ پولیس اہلکاروں نے انہیں بھی راستے سے مبینہ طور پر اٹھا لیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اب پولیس کی جانب سے 22-A/B کی درخواستیں واپس لینے اور 5 لاکھ روپے دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، بصورت دیگر تمام افراد کو فل فرائی کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
امینہ وسطڑو نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد، ایس ایس پی نوشہرو فیروز، سیشن جج اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ مبینہ طور پر ملوث ایس ایچ او اسدالنبی کچھی اور ایس ایچ او قمرالدین تنيو کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرکے ان کے اہل خانہ کی زندگیاں محفوظ بنائی جائیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس افسران مبینہ طور پر لوگوں کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بناتے اور ہاف فرائی و فل فرائی کی دھمکیاں دے کر پیسے وصول کرتے ہیں۔
آخر میں امینہ وسطڑو نے انتہائی قدم اٹھانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ اپنی بیٹی سمیت ایس ایس پی آفس کے سامنے خودسوزی کرلیں گی، جس کی ذمہ داری ایس ایچ او اسدالنبی کچھی اور ایس ایچ او قمرالدین تنيو پر عائد ہوگی۔
