​گزشتہ روز پاکستان کے فیلڈ مارشل اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کے موقع پر ایرانی جنرل محسن رضائی کے ساتھ ملاقات کے دوران ان کے سرد مہری اور متکبرانہ رویے پر عالمی میڈیا میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔ ان کا یہ رویہ سفارتی آداب، ثالثی کا کردار ادا کرنے والی ایک عالمی شخصیت اور بالخصوص ایک معزز مہمان کے حوالے سے انتہائی افسوسناک تھا۔ ایرانی جنرل نے جس انداز سے ایک ہاتھ سے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مصافحہ کرنے کی کوشش کی، وہ انتہائی ناگوار تھا؛ جبکہ دوسری جانب سید عاصم منیر کا رویہ انتہائی خندہ پیشانی اور دوستانہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ اس وقت عالمی اور سوشل میڈیا پر بحث کا گرم موضوع بنا ہوا ہے۔
​دنیا بھر کا میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کی جنگ کے دوران سب سے بہترین ثالث کا کردار ادا کیا، اور وہ بھی بالکل ابتدائی مرحلے میں، جس کی وجہ سے اس خطرناک اور نہ ختم ہونے والی جنگ کے اثرات تقریباً مدہم پڑ گئے تھے۔ اس حوالے سے ایران خود بھی پاکستان کا بے حد شکر گزار تھا۔ لیکن کل کی ملاقات میں ایرانی جنرل نے جس رویے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستان ان کے لیے سیاسی یا ثالثی کے کردار میں یا تو ان کے زعم میں کامیاب نہیں ہوا، یا پھر وہ بظاہر پاکستان کو اپنا دوست نہیں سمجھتا اور ایسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جیسے کسی دشمن کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
​سفارتی آداب، مہمان نوازی اور ایک برادر و ہمسایہ ملک کے فوجی سربراہ کی حیثیت سے فیلڈ مارشل کے ساتھ ایسا رویہ رکھنا کسی بھی طور بین الاقوامی تعلقات اور سیاسی دنیا میں مناسب نہیں ہے۔ اور فیلڈ مارشل بھی وہ، جو صرف پاکستان کے آرمی چیف نہیں ہیں بلکہ اس وقت انہوں نے عالمگیر سطح پر اپنے نام کا لوہا منوایا ہے اور ساری دنیا کی نظریں ان پر مرکوز ہیں۔ چاہے اسلامی دنیا ہو یا مغربی ممالک، سب کی توجہ کا مرکز اس وقت عاصم منیر بنے ہوئے ہیں۔
​ایسے میں ایران کا یہ رویہ انتہائی ناپسندیدہ اور منافقانہ ہے۔ پاکستان کی احسان فراموشی کر کے اس قسم کے تعلقات اور رویہ رکھنا صرف دشمن یا منافقت کرنے والے ہی کر سکتے ہیں؛ کوئی بھی سچا پڑوسی، دوست یا برادر اسلامی ملک اپنے بھائی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتا۔ اس واقعے پر پوری دنیا میں شدید تنقید کی جا رہی ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی جنرل کو فوری طور پر سرکاری ذرائع سے اس رویے پر معافی مانگنی چاہیے۔ اگر انہوں نے اس قسم کا رویہ جاری رکھا تو پاکستان کو اپنا راستہ الگ کرنا ہوگا اور ایران کو امریکہ کے رحم و کرم پر چھوڑنا پڑے گا۔ کیونکہ جس ملک کے لیے پاکستان اور اس کے آرمی چیف نے قربانیاں دیں، جنگ کے دوران دورے کیے، ثالثی کا کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کو خاموش کرانے کی بھرپور کوششیں کیں، اس کے بدلے میں یہ رویہ کسی طور اور کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور معافی مانگنی ہوگی، ورنہ وہ عالمی سطح پر تنہا رہ جائے گا۔
​دوسری جانب، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل نے انہیں حوثیوں کے حوالے سے بھی ایک انتہائی واضح اور سخت پیغام دے دیا ہے کہ وہ حوثیوں کی پشت پناہی سے باز آ جائیں اور انہیں سمجھائیں کہ وہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کا ارتکاب نہ کریں۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ان کے خلاف پاکستان بھرپور کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔ یہ واضح اور باکمال پیغام بھی عاصم منیر اپنے ساتھ تہران لے کر پہنچے تھے۔
​اگرچہ ایرانی جنرل سے ان کی ملاقات خوشگوار نہیں رہی، لیکن دوسری طرف ایرانی صدر کی جانب سے فیلڈ مارشل کا پرتپاک استقبال اور ان کے ساتھ خوش اخلاقی پر مبنی بیٹھک ایک بالکل مختلف صورت حال پیش کرتی ہے۔ شاید یہ ایران کے اندر موجود دو مختلف طبقوں کا کھلا تضاد ہے۔ ایک طرف ایرانی صدر کا طبقہ ہے جو اعتدال پسند، مذاکرات کا خواہاں، جنگ کا مخالف اور سیاسی حل کا حامی ہے؛ جبکہ دوسری طرف وہ مذہبی و عسکری طبقہ ہے جو ‘پاسدارانِ انقلاب’ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو انتہائی سخت گیر، جنگ کا خواہاں اور مذاکرات کا دشمن ہے۔
​ایران کو اپنی اس داخلی صورت حال کو سمجھنا ہوگا اور اس تضاد کو ختم کر کے دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔ خاص طور پر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے اور کس طرح کے روابط قائم رکھنے ہیں، اس پر انہیں خصوصی طور پر غور و فکر کرنا ہوگا اور اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا، ورنہ ایران آنے والے دنوں میں بالکل تنہا ہو کر رہ جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *